کراچی پولیس مقابلوں میں 197 ملزمان ہلاک

0

کراچی میں رواں سال کے پہلے دس ماہ کے دوران پولیس مقابلوں میں 197 مشتبہ ملزمان ہلاک ہو گئے ہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے ہلاکتوں میں اس تیزی سے اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان اموات کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا ہے۔

ڈان کی 8 نومبر کی رپورٹ کے مطابق کراچی پولیس کے اپنے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یکم جنوری سے 25 اکتوبر 2026 تک شہر میں 1,437 پولیس مقابلے ہوئے، جن میں 197 ملزمان ہلاک اور 1,426 زخمی حالت میں گرفتار ہوئے۔ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 109 ملزمان ہلاک ہوئے تھے، جبکہ مقابلوں کی تعداد 840 تھی۔

اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں

پولیس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں مقابلوں کی تعداد میں 71 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزمان کی تعداد 849 سے بڑھ کر 1,426 ہو گئی ہے، یعنی 67.9 فیصد اضافہ۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان 1,437 مقابلوں میں کتنے پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

کراچی پولیس کے سربراہ نے احتساب کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔ پولیس کے دو سینئر افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ پولیس کے مطابق تمام مقابلے حقیقی تھے اور ان میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

ایچ آر سی پی کا موقف

ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے ڈان سے گفتگو میں کہا کہ کمیشن مقابلوں میں ملزمان کی ہلاکت کو ماورائے عدالت قتل سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقابلوں سے سیکیورٹی کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی، جرائم پر قابو پانے کے لیے پولیسنگ بہتر بنانے، سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرنے اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

اسد اقبال بٹ نے بتایا کہ ایچ آر سی پی نے حال ہی میں پنجاب میں حقائق کی جانچ کی، جہاں آٹھ ماہ کے دوران مبینہ مقابلوں میں 1,000 ملزمان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رجحان صرف کراچی تک محدود نہیں، بلکہ ملک بھر میں پھیل رہا ہے۔

شہریوں اور پولیس رابطہ کمیٹی کی رائے

سٹیزن پولیس لائزن کمیٹی کے چیئرمین زبیر حبیب نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس اور جیلوں کے نظام سمیت پورے فوجداری انصاف کے نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف مقابلوں سے اسٹریٹ کرائم ختم نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے واقعات میں حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور شہر میں ڈکیتی کے دوران شہریوں کے قتل کی وارداتیں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اسی تناظر میں پولیس نے اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔ کراچی میں ڈاکوؤں کی ایک حالیہ واردات میں 82 تولہ سونا لوٹنے کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا — مزید تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4110

آگے کیا ہوگا

ایچ آر سی پی نے ہر مبینہ مقابلے میں ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مقابلوں کی شفاف تحقیقات کے بغیر یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ پولیس کی کارروائیاں جائز تھیں یا غیر قانونی۔ ملک بھر میں ایک ہفتے کے دوران دہشت گرد حملوں کی صورتحال پر رپورٹ یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4158

پولیس کا کہنا ہے کہ مقابلے صرف اس وقت ہوتے ہیں جب ملزمان کی جانب سے فائرنگ کی جاتی ہے، جبکہ حقوق کی تنظیمیں ہر واقعے کی آزادانہ تحقیقات چاہتی ہیں۔ یہ معاملہ اب کراچی میں پولیسنگ کے طریقہ کار پر بڑی بحث بن چکا ہے۔

ماخذ: ڈان، 8 نومبر 2026؛ ٹریبیون انڈیا (اے این آئی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *