شانگلہ: موٹر سائیکل بم دھماکے میں پولیس اہلکار شہید
شانگلہ: خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کی تحصیل چکیسر میں اتوار کے روز موٹر سائیکل میں نصب ریموٹ کنٹرول بم کے دھماکے میں ایک پولیس کانسٹیبل شہید ہو گیا۔ پولیس کے مطابق شہید اہلکار ڈیوٹی پر جانے کے لیے گھر سے نکلے تھے کہ سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل میں نصب دھماکا خیز مواد پھٹ گیا۔
واقعہ کیسے پیش آیا
پولیس کے مطابق دھماکا چکیسر تحصیل کے علاقے منگا کنڈو میں ہوا، جہاں سڑک کنارے کھڑی ایک موٹر سائیکل میں دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔ شہید کانسٹیبل قیوم خان ولد رحمان خان (بیلٹ نمبر 1550) مارٹونگ پولیس اسٹیشن میں تعینات تھے اور گھر سے ڈیوٹی پر رپورٹ کرنے جا رہے تھے کہ نامعلوم ملزمان نے ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کر دیا۔
پولیس کے مطابق کانسٹیبل قیوم خان موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ ان کی لاش کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دھماکے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے ڈی پی او شانگلہ اکرام خان کی ہدایت پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی
اب تک کسی گروپ یا فرد نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور دھماکے میں ملوث ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ ہفتوں میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ صوبے میں پولیس پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور سیکیورٹی فورسز ان حملوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔
اسی روز وزیرستان میں بھی دھماکا
اسی روز جنوبی وزیرستان میں بھی دھماکے کا ایک واقعہ پیش آیا، جہاں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج کانسٹیبل عبدالجبار اپر جنوبی وزیرستان کے علاقے جنتا (تحصیل سراروغہ) میں ایک آئی ای ڈی کو ناکارہ بناتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ڈی پی او کے مطابق عبدالجبار دھماکا خیز مواد کو محفوظ بنانے میں مصروف تھے کہ آئی ای ڈی پھٹ گئی۔
اسی روز لوئر جنوبی وزیرستان کے علاقے توئی خولہ بازار میں پولیس چوکی کے قریب دستی بم حملے کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی۔ دونوں واقعات نے قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی کی صورتحال پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
پولیس پر حملوں کا سلسلہ
پولیس کے مطابق خیبر پختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو معمول کی ڈیوٹی کے دوران نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی صوبے میں دہشت گردی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے ان حملوں کے خلاف آپریشنز تیز کر دیے ہیں اور ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: ایک ہفتے میں 49 دہشت گرد حملے، پولیس اہلکار نشانہ https://ntmnews.online/?p=4158 اور محمند میں پولیو ٹیم پر حملہ https://ntmnews.online/?p=4121
ذرائع: اے آر وائی نیوز، اردو پوائنٹ/اے پی پی، پی ٹی آئی — 8 نومبر 2026