اوسلو مذاکرات کے بعد امریکا نے یوکرین کو روسی میزائل حملوں کی پیشگی وارننگ بحال کر دی — ویٹکاف آج پوٹن سے ملاقات کے لیے سینٹ پیٹرزبرگ روانہ

0

اوسلو — یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکا نے ایک بار پھر روسی میزائل حملوں کی پیشگی خبرداری (ارلی وارننگ) کا نظام بحال کر دیا ہے۔ ان کے بقول یہ نظام اس وقت بحال ہوا جب اوسلو میں امریکی حکام سے مذاکرات ہوئے، جن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلی فونک گفتگو بھی شامل تھی۔

اوسلو میں کیا ہوا

ناروے کے وزیراعظم یونس گاہر اسٹور نے 20 اکتوبر کو اوسلو میں زیلنسکی، فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکاف کی میزبانی کی۔ اجلاس میں جیرڈ کشنر ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ مذاکرات میں یوکرین کی سلامتی، علاقائی تنازعات، پابندیوں اور یورپ کے سلامتی نظام پر بات چیت ہوئی۔

زیلنسکی نے کہا کہ کم از کم ایک ہفتے سے یوکرین کو دارالحکومت کی طرف آنے والے بیلسٹک میزائلوں کی پیشگی خبرداری نہیں مل رہی تھی، جس کی وجہ سے عام شہری غیر محفوظ تھے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ ابتدائی خبرداری ہمارے لوگوں، بچوں، بڑوں اور عام شہریوں کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے پتا چل جاتا ہے کہ بیلسٹک میزائل آ رہا ہے”۔

ویٹکاف کا آج کا دورہ روس

اوسلو اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا کہ امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکاف بدھ (21 اکتوبر) کو سینٹ پیٹرزبرگ جائیں گے، جہاں وہ روسی قیادت سے ملاقات کر کے اوسلو کی تجاویز اور امریکی و یورپی ہم منصبوں کے مجوزہ نکات شیئر کریں گے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ماسکو امریکا کی نئی تجاویز سننے کو تیار ہے، تاہم انہوں نے واشنگٹن سے کسی “معجزے” کی توقع نہ رکھنے کا بھی عندیہ دیا۔

ٹرمپ کا زیلنسکی پر دباؤ

دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زیلنسکی پر روس سے معاہدہ کرنے کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ زیلنسکی معاہدہ کرے۔ ہم نے یوکرین کو بہت کچھ دیا ہے، اور ہمیں غم، موت اور بھاری مالی نقصان کے سوا کچھ نہیں ملا”۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو “یہ بہت بری بات ہو گی”۔

میدانِ جنگ کی صورتحال

ان مذاکرات کے دوران روس نے یوکرین کے شہری علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک اور لہر چلائی۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان حملوں میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے۔ الگ سے خارکیف کے گاؤں کوروتچ میں ایک ڈرون حملے میں دو بزرگ شہری — 81 سالہ خاتون اور 83 سالہ مرد — ہلاک اور دو بچوں سمیت 11 افراد زخمی ہوئے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ اس کے پاس امریکی ساختہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹر میزائل ختم ہونے کے قریب ہیں اور وہ مزید میزائلوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔

آگے کیا ہو گا

ناروے کے وزیراعظم نے اس پیش رفت کو “ترقی” قرار دیا، لیکن واضح کیا کہ ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا — مذاکرات جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ویٹکاف کے روس دورے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا کوئی عملی جنگ بندی فارمولا سامنے آتا ہے یا نہیں۔

ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس، این پی آر، ناروے کی سرکاری بریفنگ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *