آبنائے ہرمز میں 3 ٹینکرز کو نقصان، تیل کی قیمت گر گئی

0

آبنائے ہرمز میں جمعرات کے روز مزید تین تیل بردار جہازوں کو نقصان پہنچا، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ دو ٹینکرز بحری سرنگوں سے ٹکرا گئے اور تیسرے میں آگ لگ گئی، جبکہ برطانوی بحری سلامتی ادارے یو کے ایم ٹی او کے مطابق اتوار کے بعد سے اب تک کم از کم پانچ جہازوں کے ساتھ واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق اکتوبر میں آبنائے ہرمز اور خلیج میں 35 جہازوں پر حملے ہوئے تھے، جو جنگ کے کسی بھی مہینے کی سب سے زیادہ تعداد تھی، اور نومبر میں بھی حملوں کی رفتار اسی ریکارڈ سطح کے قریب ہے۔ ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جب تک خلیج میں جنگ کا حل نہیں نکلتا، جہاز رانی خطرے میں رہے گی۔

تیل کی قیمت 20 ڈالر گر گئی

تیل کی قیمتوں میں گزشتہ چند روز میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ برینٹ خام تیل جمعرات کو 93.63 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 20 ڈالر سے زیادہ کم ہے۔ تاجروں کا خیال ہے کہ امریکی ووٹرز کی جانب سے جنگ کی مخالفت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب حملے دوبارہ شروع کرنے سے گریز کر سکتے ہیں۔

وسط مدتی انتخابات نے جنگ کی سیاست بدل دی

منگل کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا، جسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں کہا کہ جنگ ہی ان کی پارٹی کی شکست کی وجہ بنی۔

ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور مذاکرات کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو وینس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ غلطی تھی تو انہیں ٹرمپ کو اسے ختم کرنے پر قائل کرنا چاہیے۔ قالیباف نے لکھا کہ امریکیوں نے جنگ کو “نہ” کہا ہے اور ایران اس پیغام کی تائید کرتا ہے۔

کیا ٹرمپ دوبارہ حملہ کریں گے؟

صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز جنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بننے سے روکنا ان کی سیاسی قیمت سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ امریکا ایران پر “بھاری ضرب” لگا سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق دو ذرائع کا ماننا ہے کہ ٹرمپ اب بھی دوبارہ حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ ایک ذریعے نے کہا کہ “وہ ایران پر بمباری کا منصوبہ بنا رہے ہیں، ان کی باتوں پر کان نہ دھریں، انہوں نے وسط مدتی انتخابات کی وجہ سے حملہ روکا تھا۔” دوسرے ذریعے نے کہا کہ انتخابات ختم ہونے کے بعد اب ٹرمپ کے پاس سیاسی طور پر کھونے کو کچھ نہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بدھ کے روز کہا تھا کہ امریکا کے سامنے “ذرا سی بھی جھکنے” کا کوئی امکان نہیں، اور امریکا چاہے کوئی بھی جماعت اقتدار میں ہو، ایران کے ساتھ دشمنی جاری رکھے گا۔

قطر کی ثالثی جاری

ایرانی حکام گزشتہ ہفتے سے قطری ثالثوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ لڑائی ختم کرنے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجاویز پر بات ہو سکے۔ قطر نے منگل کو کہا کہ امریکا اور ایران دونوں ثالثی کے لیے پرعزم ہیں اور تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ابھی تک کسی بڑے مسئلے پر پیش رفت کا اعلان نہیں ہوا۔

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے قبل امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے فروری میں “آپریشن ایپک فیوری” کے تحت ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد سے خلیج میں کشیدگی جاری ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جیت، ٹرمپ کا ایران پر موقف
مزید پڑھیں: امریکا کا ایران کے جزیرہ قشم پر خفیہ حملہ

ماخذ: رائٹرز، دی نیشنل، گلف نیوز — 5 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *