پیراگوئے صدر مواخذے کے بعد نظر بند

0

جنوبی امریکی ملک پیراگوئے میں سیاسی بحران اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے — سینیٹ نے صدر سینٹیاگو پینیا کو مواخذے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا ہے اور پراسیکیوٹرز نے انہیں گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔ سینیٹ میں موجود تمام 44 سینیٹرز نے ان کی برطرفی کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے ایک گھنٹے بعد ہی نائب صدر پیڈرو ایلیانا نے نئے صدر کے طور پر حلف اٹھا لیا، جو اگست 2028 تک یہ عہدہ سنبھالیں گے۔

مواخذہ کیسے ہوا

پینیا کے خلاف مواخذے کی کارروائی ڈیجیٹل بینک یوینو کے بحران سے جڑی ہے۔ ایوان زیریں نے 5 نومبر کو 78 کے مقابلے میں صفر ووٹوں سے مواخذے کی منظوری دی تھی، جس کے بعد جمعے 6 نومبر کو سینیٹ نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پینیا نے جمعرات کو خود استعفیٰ دینے کی کوشش کی تھی، لیکن کانگریس نے استعفیٰ قبول کرنے کے بجائے مواخذے کی کارروائی مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ مواخذے کے فیصلے کے ساتھ ہی ان کی پارلیمانی استثنیٰ بھی ختم ہو گئی، جو منتخب سابق صدور کو عمر بھر سینیٹ کی نشست کے ساتھ ملتی ہے۔

یوینو بینک بحران

بحران کی جڑ یوینو بینک ہے، جو پیراگوئے کا ایک بڑا ڈیجیٹل بینک تھا اور ملک کی نصف سے زائد آبادی کو بینکنگ سہولتیں فراہم کرتا تھا۔ ریگولیٹرز نے 3 نومبر کو بینک کو اپنی تحویل میں لے لیا، جب اس کی مالی حالت مقررہ حد سے نیچے گر گئی۔

اس فیصلے کے بعد تقریباً 30 لاکھ صارفین اپنی بچتوں اور بینک کارڈز تک رسائی سے محروم ہو گئے۔ یہ پیراگوئے کی ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے بڑی سیاسی اور مالیاتی بحران بن گیا ہے۔ پراسیکیوٹرز نے بینک کے کنٹرولنگ شیئر ہولڈر میگوئل واسکیز سمیت 27 افراد پر الزامات عائد کیے ہیں۔

الزامات کیا ہیں

پینیا پر الزامات ہیں کہ انہوں نے مفادات کے ٹکراؤ، بینکنگ نگرانی میں مداخلت، پنشن فنڈز کی منتقلی اور مرکزی بینک سے جڑے ادارہ جاتی پردہ پوشی میں کردار ادا کیا۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق انہوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ سے سرکاری فنڈز کی بڑی رقم یوینو بینک کی طرف موڑی، جبکہ ریگولیٹرز نے بینک کے اندرونی قرضوں کو نظر انداز کیا۔

الزامات میں یہ بھی شامل ہے کہ پینیا نے یوینو کی ہولڈنگ کمپنی میں حصہ رکھا تھا، جسے انہوں نے دباؤ کے تحت گزشتہ سال فروخت کیا، اور یوینو کے ایک سابق ایگزیکٹو کو مرکزی بینک کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ پراسیکیوٹرز نے مرکزی بینک کے سربراہ کارلوس کاروالو کے لیے بھی گرفتاری کا حکم جاری کیا ہے۔

پینیا نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ یہ واضح رہے کہ مواخذہ ان کی مجرمانہ ذمہ داری ثابت نہیں کرتا — پراسیکیوٹرز ممکنہ الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں اعتماد کی خلاف ورزی اور اثر و رسوخ کی تجارت شامل ہو سکتی ہے۔ اعتماد کی خلاف ورزی پر پانچ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ سنگین مقدمات میں یہ دس سال تک بھی جا سکتی ہے۔

نئے صدر کون ہیں

پیڈرو ایلیانا، جو پینیا کے نائب صدر تھے، جمعے کو ہی نئے صدر کے طور پر حلف اٹھا چکے ہیں۔ وہ اگست 2028 میں مدت مکمل ہونے تک صدارت سنبھالیں گے۔ تاہم خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایلیانا بھی یوینو بینک سے جڑے معاملے میں تحقیقات کی زد میں ہیں۔

پینیا کو ہفتے کی صبح پراسیکیوٹرز کے دفتر میں پیش ہونا ہے، جہاں اقتصادی جرائم اور انسداد بدعنوانی یونٹ ان سے پوچھ گچھ کرے گا۔ اٹارنی جنرل نے بحران پر تین فوجداری مقدمات کھول دیے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

پینیا 1989 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد مواخذے سے ہٹائے جانے والے دوسرے پیراگوئین صدر بن گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پراسیکیوٹرز کی کارروائی اور نئے صدر کی پالیسیاں بحران کی سمت متعین کریں گی۔

بینک کے صارفین کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان کی بچتیں کب واپس ملیں گی۔ حکومت اور ریگولیٹرز پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ متاثرہ صارفین کے لیے فوری ریلیف کا اعلان کریں۔

مزید عالمی خبریں: سٹیفن ملر ٹرمپ کے نئے چیف آف اسٹاف مقرر اور پاکستان کو بھارت کی ایس سی او سربراہی کانفرنس کی دعوت

ماخذ: چینل نیوز ایشیا، ایسوسی ایٹڈ پریس، دی سٹیٹس مین اور آؤٹ لک انڈیا — 7 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *