شی، ٹرمپ اور پوتن ملاقات: چین نے بات چیت کی تصدیق کر دی

0

بیجنگ نے پہلی بار باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی تاریخی سہ فریقی ملاقات پر بات چیت جاری ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے اس ہفتے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین تینوں سربراہان مملکت کی ملاقات کے حوالے سے متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے۔

ملاقات کب اور کہاں ہو سکتی ہے

اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ اس ماہ چین کے جنوبی شہر شینزین میں ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (ایپک) سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوگی۔ ایپک سربراہی اجلاس 18 اور 19 نومبر کو شینزین میں منعقد ہو رہا ہے اور چین اس سال اس اجلاس کا میزبان ہے۔ ایپک 21 رکن ممالک کا گروپ ہے جس میں امریکہ اور روس دونوں شامل ہیں۔

ابھی تک کچھ بھی حتمی طے نہیں ہوا ہے۔ چینی ترجمان نے واضح کیا کہ بات چیت جاری ہے لیکن حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی فنانشل ٹائمز کو بتایا تھا کہ ایسی ملاقات کے انعقاد پر کام جاری ہے۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق پوتن اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے 21 اکتوبر کو سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والی بات چیت کے دوران سہ فریقی ملاقات کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔

ٹرمپ کا تیسرا دورہ اور تجارتی معاہدہ

صدر ٹرمپ رواں سال تیسری بار صدر شی سے ملاقات کے لیے شینزین جانے والے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان نازک تجارتی معاہدہ جنوری میں ختم ہونے والا ہے، جس کی وجہ سے یہ ملاقات تجارتی لحاظ سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے جمعے کو چینی نائب وزیر اعظم ہی لی فینگ سے ویڈیو کال میں بیجنگ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ماضی کے وعدوں پر مکمل عمل درآمد کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، خاص طور پر زرعی خریداری، نایاب معدنیات اور دیگر اہم معدنیات کے حوالے سے۔

ماہرین کی رائے: تصویر زیادہ، معاہدہ کم

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تینوں رہنما اکٹھے ہوتے ہیں تو یہ تاریخی لمحہ ہوگا، لیکن ان کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہونے کی وجہ سے کسی ٹھوس معاہدے کا امکان کم ہے۔ اسٹمسن سینٹر کے چائنا پروگرام کی ڈائریکٹر سن یون نے کہا کہ ان کے خیال میں ملاقات ہوگی، سوال صرف اس کی شکل اور مواد کا ہے۔ ان کے مطابق چین تصویر چاہتا ہے لیکن اس کی قیمت نہیں۔

امریکی تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینئر ڈائریکٹر کریگ سنگلٹن نے کہا کہ یہ ملاقات محض تصویر کا موقع بھی ہو سکتی ہے جس سے پوتن کو امریکی اور چینی رہنماؤں کے ساتھ کھڑے دکھایا جا سکے، تاہم ایسی تصویروں کے سفارتی فوائد محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

ایجنڈا: جوہری ہتھیار اور یوکرین

ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ شی اور پوتن سے جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول پر بات کرنا چاہیں گے، جبکہ پوتن کی توجہ یوکرین کی جنگ پر ہے — اور وہ اس موضوع پر یوکرین کو میز پر بٹھائے بغیر بات کرنا چاہتے ہیں۔ سابق امریکی عہدیدار ڈینی رسل کے مطابق پوتن کو اس سہ فریقی ملاقات سے سب سے زیادہ فائدہ ہوگا اور روس واضح طور پر اس ملاقات کے لیے زور دے رہا ہے، جو ماسکو کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہوگی۔

سن یون کے مطابق روس ممکنہ طور پر اس سربراہی اجلاس کو استعمال کر کے چین اور امریکہ کو یوکرین پر ماسکو کے موقف کے قریب لانے کی کوشش کرے گا، جبکہ چین کو روسی چالوں سے نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین ہتھیاروں کے کنٹرول یا یوکرین یا ایران پر بات چیت میں شامل نہیں ہوگا، اس کے سوا کہ امن اہم ہے اور جنگیں ختم ہونی چاہئیں۔

آگے کیا ہوگا

ایپک سربراہی اجلاس سے تقریباً دو ہفتے قبل چین کی جانب سے یہ تصدیق اس بات کی علامت ہے کہ بیجنگ اس ملاقات کے لیے تیار ہے۔ اگر ملاقات ہوتی ہے تو یہ شی، پوتن اور ٹرمپ کے درمیان پہلی سہ فریقی سربراہی ملاقات ہوگی۔ دنیا کی تین بڑی طاقتوں کے رہنماؤں کا ایک ساتھ بیٹھنا عالمی سیاست میں ایک غیر معمولی لمحہ ہوگا، چاہے اس سے کوئی ٹھوس معاہدہ سامنے آئے یا نہ آئے۔

دنیا بھر میں اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی جاری ہے، اور پیراگوئے کے صدر کی مواخذے کے بعد لاطینی امریکہ کی سیاست بھی خبروں میں ہے۔ امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کانگریس میں جیت کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بین الاقوامی محاذ پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

ماخذ: عرب نیوز (اے پی)، 7 نومبر 2026؛ دی ہندو، 7 نومبر 2026؛ ٹی آر ٹی ورلڈ، 4 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *