برآمدات میں سست روی، تجارتی خسارہ 14.63 ارب ڈالر
پاکستان کی برآمدات مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ میں سست روی کا شکار رہیں، جبکہ درآمدات میں تیزی سے تجارتی خسارہ بڑھ گیا۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے تازہ اعداد کے مطابق جولائی تا اکتوبر 2026 برآمدات 11.34 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 10.45 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.52 فیصد زیادہ ہیں۔ تاہم درآمدات 12.59 فیصد بڑھ کر 25.96 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے تجارتی خسارہ 15.97 فیصد بڑھ کر 14.63 ارب ڈالر ہو گیا۔
چار ماہ کے اعداد
پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے چار ماہ میں برآمدات میں صرف واحد ہندسے میں اضافہ ہوا۔ یہ سست روی بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ اور یورپ کی منڈیوں میں برآمدات کی کمی کی وجہ سے ہے، جہاں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات محسوس ہو رہے ہیں۔
افغانستان کی منڈی بھی اکتوبر 2025 سے بند ہے، جو پاکستان کی برآمدات کے لیے 1.5 ارب ڈالر سے زائد کی منڈی تھی۔ اس بندش نے بھی برآمدات پر منفی اثر ڈالا ہے۔
اکتوبر کی صورتحال
اکتوبر 2026 میں برآمدات صرف 2.84 فیصد بڑھ کر 2.93 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اکتوبر میں یہ 2.85 ارب ڈالر تھیں۔ ماہ بہ ماہ بنیاد پر ستمبر کے مقابلے میں برآمدات میں صرف 0.21 فیصد اضافہ ہوا، جو سست روی کی واضح علامت ہے۔
دوسری جانب اکتوبر میں درآمدی بل 11.81 فیصد بڑھ کر 6.81 ارب ڈالر ہو گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ 6.08 ارب ڈالر تھا۔ ماہ بہ ماہ درآمدات میں 5.72 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اکتوبر میں تجارتی خسارہ 19.70 فیصد بڑھ کر 3.87 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اکتوبر میں یہ 3.24 ارب ڈالر تھا۔
خسارہ کیوں بڑھا
برآمدی شعبہ فروری سے ہی دباؤ میں ہے، جب سے مشرق وسطیٰ میں تنازع شروع ہوا۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے برآمدکنندگان کے لیے جہاز رانی کی لاگت بڑھا دی ہے اور سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔
گزشتہ مالی سال 2025-26 میں بھی برآمدات ہدف سے 4.87 ارب ڈالر کم رہیں اور سکڑ گئیں۔ مالی سال 2025-26 میں برآمدات 30.13 ارب ڈالر رہیں، جو اس سے پچھلے سال کے 32.04 ارب ڈالر کے مقابلے میں 5.97 فیصد کم تھیں۔ اسی عرصے میں درآمدی بل 7.89 فیصد بڑھ کر 69.59 ارب ڈالر ہو گیا تھا، جس سے مالی سال 2025-26 کا تجارتی خسارہ 21.57 فیصد بڑھ کر 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
برآمدکنندگان کی شکایات
برآمدکنندگان توانائی کی بلند قیمتوں کی وجہ سے کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت پر شکایت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی اور گیس نے پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مہنگا کر دیا ہے، جس سے مقابلہ مشکل ہو گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی برآمدات بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ جب تک توانائی کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں، برآمدات میں نمایاں بہتری مشکل ہے۔
آگے کا ہدف
وزارت منصوبہ بندی نے پہلے 2030 تک برآمدات 60 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا تھا، جو زیادہ تر سرکاری دستاویزات تک محدود رہا۔ اب وزارت نے ہدف بڑھا کر 2035 تک 100 ارب ڈالر مقرر کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات بڑھانے کے لیے توانائی کی قیمتیں کم کرنا، نئی منڈیوں تک رسائی اور چھوٹے برآمدکنندگان کی مدد ضروری ہے۔ اگر ان اقدامات پر عمل نہ ہوا تو تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے، جو معیشت پر دباؤ ڈالے گا۔
مزید معاشی خبریں: بجلی مہنگی: نیپرا نے صنعتی ٹیرف 25.30 روپے کر دیا اور پٹرول 6.59 روپے سستا، نئی قیمت 346 روپے فی لیٹر
ماخذ: ڈان — 7 نومبر 2026 (پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے اعداد)