بجلی مہنگی: نیپرا نے صنعتی ٹیرف 25.30 روپے کر دیا
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی خصوصی شرح 22.98 روپے سے بڑھا کر 25.30 روپے فی یونٹ کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام صارفین کے نومبر کے بجلی بلوں میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2.37 روپے فی یونٹ کا اضافی بوجھ بھی ڈالا جائے گا۔
نیپرا کا فیصلہ: 25.30 روپے فی یونٹ
نیپرا نے جمعہ 6 نومبر کو صنعتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے متعارف کرائے گئے خصوصی بجلی پیکج کی شرح میں اضافے کا اعلان کیا۔ یہ پیکج گزشتہ سال دسمبر میں صنعتی صارفین کو قومی گرڈ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دینے کے لیے شروع کیا گیا تھا اور اس کے تحت اضافی بجلی کی کھپت پر 22.98 روپے فی یونٹ کی شرح مقرر کی گئی تھی۔
اب نومبر 2026 کی بلنگ سے یہ شرح 25.30 روپے فی یونٹ ہو جائے گی۔ یہ اضافہ 2.32 روپے فی یونٹ یعنی تقریباً 10 فیصد کے برابر ہے۔ نیپرا نے واضح کیا ہے کہ یہ شرح عارضی ہے اور حتمی تعین ابھی باقی ہے۔
دو ارکان کی مخالفت، چیئرمین کا فیصلہ کن ووٹ
یہ فیصلہ نیپرا کے اندر اختلافات کے باوجود منظور ہوا۔ ٹیرف اور ترقی کے امور کے ذمہ دار دو ارکان، امینہ احمد اور مقصود انور نے اس اضافے کی شدید مخالفت کی۔ اپنے مشترکہ اختلافی نوٹ میں ان کا کہنا تھا کہ 25.30 روپے کی شرح بھی کسی ثبوت پر مبنی نہیں ہے اور نیپرا کے اپنے ادارہ جاتی حسابات کے مطابق اضافی بجلی کی اصل لاگت 31.83 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔
نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار نے اختلاف کرنے والے ارکان کے دلائل سے مکمل اتفاق کیا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنا فیصلہ کن ووٹ استعمال کرتے ہوئے 25.30 روپے کی شرح منظور کر لی۔ قانون کے رکن نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی۔ صنعتی شعبے نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا۔
نومبر کے بلوں میں 2.37 روپے فی یونٹ اضافی چارج
صنعتی پیکج کی شرح میں اضافے کے علاوہ نیپرا نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو نومبر کے بلوں میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2.37 روپے فی یونٹ کا اضافی چارج لگانے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ اس سے تقریباً 25 ارب روپے کی اضافی وصولی ہوگی۔
یہ چارج ستمبر 2026 کے فیول کی لاگت کے فرق کی بنیاد پر لگایا جا رہا ہے۔ نیپرا نے ستمبر کی فیول لاگت کے لیے 2.3673 روپے فی یونٹ کی شرح منظور کی ہے۔ یہ چارج ملک بھر کے تمام صارفین پر لاگو ہوگا، بشمول کراچی میں کے الیکٹرک کے صارفین، تاہم لائف لائن صارفین، پری پیڈ صارفین اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
عام صارفین پر کیا اثر پڑے گا؟
صنعتی پیکج کی 25.30 روپے والی شرح صرف اہل صنعتی اور نجی زرعی صارفین کی اضافی بجلی کھپت پر لاگو ہوتی ہے۔ گھریلو صارفین کی عام بجلی کی شرح اس سے براہ راست متاثر نہیں ہوگی۔ تاہم نومبر کے بلوں میں لگنے والا 2.37 روپے فی یونٹ کا فیول چارج گھریلو صارفین سمیت سب پر لاگو ہوگا۔
مثال کے طور پر اگر کسی گھر کا ماہانہ استعمال 200 یونٹ ہے تو اسے نومبر کے بل میں فیول چارج کی مد میں تقریباً 474 روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مہنگائی پر دباؤ بڑھے گا اور صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
پیکج کی شرائط اور آئندہ جائزہ
نیپرا نے پیکج کی شرائط کا جائزہ دسمبر 2025 سے مئی 2026 اور جون سے نومبر 2026 کی مدت کے لیے لینے کا حکم دیا ہے۔ پیکج کی اصل شرائط کے مطابق اگر دو مسلسل جائزوں میں شرح میں اضافے کی ضرورت پڑے تو یہ اسکیم فوری طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ نیپرا نے واضح کیا ہے کہ نئے فیصلے سے اس شرط پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
یاد رہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں بھی حالیہ دنوں میں کمی آئی ہے، جس کے بارے میں مزید پڑھیں: پٹرول 6.59 روپے سستا، نئی قیمت 346 روپے فی لیٹر اور معیشت کی تازہ صورتحال یہاں دیکھیں: زرمبادلہ ذخائر ریکارڈ سطح پر۔
ماخذ: ڈان، نیپرا فیصلہ 6 نومبر 2026