پولیو مہم پر حملے جاری: جمرود میں سپروائزر اغوا

0

خیبر پختونخوا میں پولیو مہم پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے — ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیو مہم کے ایک سپروائزر کو اغوا کر لیا ہے، جبکہ پولیس نے ان کی بازیابی کے لیے علاقے میں ناکے لگا دیے ہیں۔

ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) وقار احمد کے مطابق، پولیو مہم کے سپروائزر جلیل خان کو بدھ کے روز جمرود کے چپری علاقے سے مسلح افراد نے اغوا کیا اور نامعلوم مقام پر لے گئے۔ پولیس ٹیمیں ان کی بازیابی کے لیے سرگرم ہیں اور علاقے میں تلاش کا عمل جاری ہے۔

ایک ہفتے میں حملوں کا تیسرا واقعہ

جمرود میں اغوا کا یہ واقعہ پولیو مہم کے خلاف تشدد کی تازہ ترین کڑی ہے۔ اس سے قبل پیر کے روز ضلع ٹانک میں چار پولیو کارکنوں کو فائرنگ کے بعد اغوا کر لیا گیا تھا، جبکہ منگل کو ضلع مہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔ مزید پڑھیں: محمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور 2 پولیس اہلکار شہید

ملک بھر میں 2 نومبر سے شروع ہونے والی سات روزہ انسداد پولیو مہم 97 اضلاع میں جاری ہے، جس میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف ہے۔ مہم 8 نومبر تک جاری رہے گی۔

وزیر اعظم کا ایک ہفتے میں منصوبے کا حکم

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو پولیو کے خاتمے سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی صحت حکام اور انسداد پولیو ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ چاروں صوبوں کا دورہ کر کے ایک ہفتے کے اندر مربوط حکمت عملی تیار کریں۔ وزیر اعظم نے تازہ کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بیماری کے خاتمے کے لیے نئے اور موثر طریقہ کار پر زور دیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر ضلع میں پولیو کا نیا کیس سامنے آنے کے بعد رواں سال ملک میں کیسز کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ متاثرہ بچہ باڑہ تحصیل کی یونین کونسل مستک کا سات ماہ کا لڑکا ہے۔ یہ خیبر ضلع کا تیسرا اور خیبر پختونخوا کا ساتواں کیس ہے۔ مزید پڑھیں: پولیو کا 9واں کیس: خیبر میں 7 ماہ کا بچہ متاثر

وائرس کا افغانستان سے تعلق

قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق خیبر ضلع کے تینوں کیسز میں پائے جانے والے وائرس کی جینیاتی جانچ سے افغانستان میں گردش کرنے والے پولیو وائرس سے تعلق ثابت ہوا ہے۔ افغانستان میں رواں سال پولیو کے 50 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جو سرحد پار منتقلی کی مسلسل نشاندہی کرتا ہے۔

پاکستان میں 2024 میں پولیو کے 74 کیسز اور 2025 میں 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ رواں سال اب تک نو کیسز سامنے آئے ہیں — جن میں سے سات خیبر پختونخوا اور دو سندھ سے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے صرف دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی مقامی طور پر موجود ہے۔

مہم کی حفاظت پر سوالات

پولیو کارکنوں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر حملوں نے مہم کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مہم کے دوران سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، تاہم خیبر پختونخوا کے حساس علاقوں میں کارکنوں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔

صحت حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ جاری مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ این ای او سی کے مطابق مسلسل ویکسینیشن ہی بچوں کو اس مرض سے بچانے کا واحد راستہ ہے۔

ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، آئی اے این ایس، منٹ مرر — 4 اور 5 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *