پاکستان سعودی عرب توانائی تعاون، ویزا سہولت کا اعلان
پاکستان اور سعودی عرب نے تیل کے ذخائر، ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، ایل پی جی کی فراہمی اور معدنیات کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ اتفاق جمعہ 30 اکتوبر کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح بن تامی الباقمی کی ملاقات میں ہوا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی رفتار دینے پر بات چیت ہوئی۔
ٹیکس فری تیل ذخائر کی پیشکش
پیٹرولیم ڈویژن کے بیان کے مطابق پاکستان نے ٹیکس نیوٹرل بانڈڈ اسٹوریج پالیسی منظور کر لی ہے، جس کے تحت سعودی کمپنیاں پاکستان میں مقامی ٹیکس ذمہ داریوں کے بغیر تجارتی تیل کے ذخائر قائم کر سکیں گی۔ وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ یہ پالیسی فجیرہ اور سنگاپور جیسے عالمی توانائی مراکز کے معیار پر بنائی گئی ہے۔ اس کا مقصد آبنائے ہرمز اور باب المندب سے گزرنے والے راستوں کے خطرات کو کم کرنا اور سعودی عرب کو ایشیائی منڈیوں تک بہتر رسائی دینا ہے۔
پاکستان کے پاس اس وقت کوئی اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر نہیں، جس کی وجہ سے امریکا ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے سپلائی متاثر ہونے پر ملک توانائی کے جھٹکوں کی زد میں رہا۔ نئی پالیسی کے تحت سعودی ذخائر پاکستان میں موجود ہوں گے تو سپلائی میں خلل کی صورت میں ملک کو فوری سہارا مل سکے گا۔
حب میں بڑا پیٹرولیم کمپلیکس
ملاقات میں بلوچستان کے علاقے حب میں ایک بڑا پیٹرولیم اسٹوریج اور ریفائننگ کمپلیکس بنانے کے منصوبے پر بھی بات ہوئی۔ یہ منصوبہ ٹیکنپ انرجیز یوکے کی رہنمائی میں تیار کیا جا رہا ہے اور اس میں بہت بڑے خام تیل بردار بحری جہازوں (وی ایل سی سی) کی آمد کی سہولت ہوگی۔ وزیر نے کہا کہ یہ کمپلیکس پاکستان کو وسطی ایشیا اور چین کی منڈیوں کے لیے علاقائی توانائی راہداری بننے میں مدد دے گا، اور اس کی حمایت وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز بھی کر رہے ہیں۔
ریفائنری اپ گریڈیشن اور ایل پی جی
وزیر پیٹرولیم نے سعودی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کے ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام کو بھی نمایاں موقع قرار دیا۔ اس پروگرام کا مقصد ملک کی ریفائنریوں کو جدید بنانا، کارکردگی بہتر کرنا اور یورو 5 معیار کے ایندھن کی طرف منتقل ہونا ہے۔ اس کے ساتھ سعودی آرامکو کے ساتھ خام تیل کی مزید کھیپوں اور سردیوں میں گیس کی بڑھتی طلب کے پیش نظر ایل پی جی کی مخصوص کھیپوں کی فراہمی پر بھی بات ہوئی۔ سعودی حکام نے یانبو بندرگاہ سے پاکستان کے لیے خام تیل کی ترجیحی ترسیل پر بھی بات کی۔
ایل پی جی کی قیمتوں (https://ntmnews.online/?p=1344) میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے تناظر میں سعودی ایل پی جی کی فراہمی پاکستانی صارفین کے لیے اہم ہو سکتی ہے، خاص طور پر موسم سرما میں جب گھریلو طلب بڑھ جاتی ہے۔
معدنیات فورم اور سیم ڈے ویزا
وزیر نے سعودی نائب وزیر کان کنی خالد المدفر کو 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی، تاکہ معدنیات کے شعبے میں سعودی سرمایہ کاری کے مواقع پر بات ہو سکے۔
ملاقات کی ایک اہم خبر پاکستانی شہریوں کے لیے بھی سامنے آئی: سعودی سفیر نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے نے پاکستانی شہریوں کی ویزا درخواستوں کی سیم ڈے پروسیسنگ شروع کر دی ہے، جس سے کاروباری، ثقافتی اور عوامی روابط کو فروغ ملے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون پہلے ہی گہرا ہو چکا ہے۔ مکہ الائنس سے متعلق حالیہ ملاقات (https://ntmnews.online/?p=2531) میں بھی علاقائی امن اور تعاون پر زور دیا گیا تھا، اور اب توانائی کا معاہدہ اس شراکت داری کو معاشی میدان میں بھی وسعت دے رہا ہے۔
ذرائع: ڈان، ٹریبیون، آج انگلش، پیٹرولیم ڈویژن بیان 30 اکتوبر 2026۔