عمران خان صحت: کور کمیٹی کا چیف جسٹس سے مطالبہ
پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے علاج سے متعلق عدالتی احکامات پر فوری اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت اور زندگی کا تحفظ ایک فوری انسانی مسئلہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر ناقابل قبول ہے۔
کور کمیٹی کا اجلاس اور مطالبات
پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو ہوا جو رات دیر تک جاری رہا۔ یہ اجلاس اس وقت بلایا گیا جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ عمران خان کا بلڈ پریشر 192 تک پہنچ گیا ہے۔ اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ کمیٹی کو عمران خان کی صحت پر شدید تشویش ہے، خاص طور پر ان کے لیے طبی سہولتوں کی مبینہ کمی اور اہل خانہ اور ذاتی معالجین تک رسائی میں رکاوٹوں پر۔
کمیٹی کو عمران خان کی اپنے وکیل سلمان صفدر سے حالیہ ملاقات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ بیان میں بلڈ پریشر میں اضافے کی اطلاعات کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا۔
کور کمیٹی نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ عمران خان کی صحت کو محض سیاسی یا قانونی تنازع نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی اور طبی ہنگامی صورت حال سمجھا جائے۔ کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین کو فوری، بلا رکاوٹ اور مؤثر رسائی دی جائے، تمام ضروری طبی معائنے اور ٹیسٹ بلا تاخیر کرائے جائیں اور انہیں مکمل طبی جانچ اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیا جائے۔
کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ اگر اس مطالبے کی تکمیل میں مزید تاخیر ہوئی تو وہ ناقابل قبول ہوگی۔ بیان میں پوری قوم اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ عمران خان کی زندگی اور صحت کے تحفظ کے لیے فوری اور بھرپور آواز اٹھائیں۔
چیف جسٹس سے اپیل
کور کمیٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور اس معاملے کو اس کی غیر معمولی انسانی اہمیت کے پیش نظر فوری توجہ دیں۔
بیان میں کہا گیا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد متعلقہ حکومتی اور انتظامی اداروں کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے کسی بھی صورت میں گریز نہیں کیا جا سکتا۔ کمیٹی نے پی ٹی آئی کے تمام ارکان پارلیمنٹ، پارٹی تنظیموں اور عہدیداروں سے بھی کہا کہ وہ عمران خان کی صحت، علاج اور حقوق کا معاملہ پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور دیگر متعلقہ فورمز میں بھرپور انداز میں اٹھائیں۔
شاہ محمود قریشی کی صحت
اجلاس میں جیل میں قید پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ قریشی کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہ اپنی بیرک میں چہل قدمی کے دوران گر گئے تھے، جس سے ان کی صحت متاثر ہوئی۔
کور کمیٹی نے متعلقہ عدالتوں، حکومت اور جیل انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ شاہ محمود قریشی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر کے ان کا مکمل طبی معائنہ اور ضروری علاج یقینی بنایا جائے۔ ان کے وکیل کے مطابق قریشی کو گھٹنے اور بازو پر چوٹیں آئی ہیں اور جیل حکام نے ان کے خون کے نمونے شوکت خانم اسپتال بھجوا دیے ہیں۔
پس منظر: سپریم کورٹ کا حکم
عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید ہیں اور قید کے دوران ان کی صحت کے حوالے سے بار بار خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کی آنکھ کی بیماری بھی جنوری کے آخر میں سامنے آئی تھی، جس کے بعد انہیں متعدد بار اسپتال لے جایا گیا۔
18 اگست کو سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ یہ حکم اس وقت آیا تھا جب اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے عدالت کو عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ پیش کی تھی۔ تاہم حکومت نے انہیں شفا اسپتال کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جا کر واپس جیل منتقل کر دیا تھا۔
پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ حکومت جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ جیل میں مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ عمران خان کی صحت سے متعلق یہ معاملہ اس سے قبل بھی خبروں میں رہا ہے — اس بارے میں مزید تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3703
آگے کیا ہوگا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اپیلوں کی سماعت 10 نومبر کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا معاملہ بھی سیاسی محاذ پر گرم ہے — اس بارے میں تازہ خبر یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3857
پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اس بیان کے بعد عمران خان کی صحت کا معاملہ ایک بار پھر ملکی سیاست کے مرکز میں آ گیا ہے اور اب سب کی نظریں چیف جسٹس اور حکومت کے ردعمل پر ہیں۔
ماخذ: ڈان، 6 نومبر 2026