عمران خان کی صحت: بلڈ پریشر 192، شفا اسپتال منتقلی کا مطالبہ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے مطابق ان کا بلڈ پریشر حالیہ دنوں میں 192 تک پہنچ گیا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے جہاں ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں ان کا آزادانہ طبی معائنہ اور علاج ہو سکے۔
یہ بیان بدھ کے روز سامنے آیا، دو روز بعد جب عمران خان کی ان کے وکیل سے اڈیالہ جیل میں 2 نومبر کو ملاقات ہوئی تھی۔ پی ٹی آئی کے مطابق اس ملاقات کے دوران سابق وزیراعظم نے اپنی صحت سے متعلق خدشات اپنے وکیل تک پہنچائے تھے۔
بہن روبینہ خان کا بیان
عمران خان کی بہن روبینہ خان نے بتایا کہ ان کے بھائی نے اپنے وکیل کے ذریعے پیغام پہنچایا کہ ان کا بلڈ پریشر 192 تک بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان نے حکام پر مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔
روبینہ خان نے کہا کہ وکیل کو سات ماہ بعد عمران خان سے مختصر ملاقات کی اجازت ملی تھی، اور وکیل تک رسائی ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کبھی ہائی بلڈ پریشر نہیں رہا اور ایک سال قبل تک ان کا بلڈ پریشر معمول کے مطابق تھا۔
انہوں نے کہا کہ خاندان کے طبی مشیروں کے نزدیک 70 سال سے زائد عمر کے شخص میں اچانک ہائی بلڈ پریشر کا ظاہر ہونا غیر معمولی بات ہے۔ روبینہ خان نے مطالبہ کیا کہ ان کے بھائی کو فوری طور پر اسلام آباد کے کسی آزاد طبی ادارے میں داخل کیا جائے جہاں ان کے ذاتی ڈاکٹر اور ان کی پسند کے ڈاکٹر کی موجودگی میں علاج ہو۔
بیٹے قاسم اور پارٹی قیادت کا ردعمل
عمران خان کے بیٹے قاسم نے اپنی خالہ کے بیان کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ہائی بلڈ پریشر معمول کی بات نہیں بلکہ ان کے مطابق تنہائی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر عمران خان کو جلد رہا نہ کیا گیا تو وہ اسی سیل میں جان سے جا سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے معاملے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب پارٹی کو خان صاحب اور بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے مؤثر حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ ان کے مطابق یہ حکمت عملی محض جذبات پر مبنی نہیں ہو سکتی، بلکہ خاندان اور پارٹی کے تمام مجاز اداروں سے مشاورت کے بعد ملک کے اندر اور باہر بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بھی ایک بیان میں کہا کہ عمران خان کے بلڈ پریشر میں بار بار اتار چڑھاؤ انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق ان کی صحت کا تحفظ ریاست اور پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مناسب طبی سہولیات، اہل خانہ تک رسائی اور اپنی پسند کے علاج سے محروم رکھ کر ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما کی زندگی اور بنیادی حقوق کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست 2026 کے حکم میں عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم پارٹی کے مطابق اس حکم پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا۔ شیخ وقاص اکرم نے اس حکم پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا علاج ان کے ذاتی اور خاندان کے مقرر کردہ ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔
روبینہ خان نے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے arbitrary detention، اقوام متحدہ کے ماہرین، کمیٹی برائے انسداد تشدد اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیانات کا حوالہ بھی دیا جو ان کے مطابق عمران خان کی حراست اور سلوک سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کو جیل میں ان کی سلامتی کا خدشہ ہے اور اگر ابھی طبی علاج نہ ملا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔
پس منظر: ملاقاتوں پر پابندی کا معاملہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو ہفتے میں دو بار، منگل اور جمعرات کو، اپنے اہل خانہ، وکلاء اور دیگر ساتھیوں سے ملنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود حالیہ مہینوں میں اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں کی ان تک رسائی بڑی حد تک محدود رہی ہے۔
یاد رہے کہ 2 نومبر کی ملاقات عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر سے تقریباً سات ماہ بعد ہوئی تھی، جس میں صحت اور رہائش کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا تھا۔ اس سے قبل پی ٹی آئی نے اسپتال منتقلی کے معاملے پر توہین عدالت کی کارروائی کا بھی اعلان کیا تھا۔
مزید تفصیل کے لیے پڑھیں: گوہر: عمران نے کے پی حکومت کے خاتمے کا خیرمقدم نہیں کیا اور عمران، بشریٰ سے وکیل کی ملاقات، 7 ماہ بعد رسائی۔
آگے کیا ہوگا؟
پی ٹی آئی نے عمران خان، بشریٰ بی بی اور ملک بھر میں قید تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ سیاسی انتقام اور جبر کا خاتمہ ہونا چاہیے اور قومی مفاہمت کی راہ اپنائی جائے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں دس روز کے اندر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔ عمران خان کی صحت کا معاملہ بھی اس کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل ہونے کا امکان ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ 10 نومبر کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرے گی، جو اس معاملے کی اگلی اہم تاریخ ہوگی۔
ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، 5 نومبر 2026؛ ڈان، 5 نومبر 2026