پی سی بی این او سی معاہدہ: 16 پاکستانی کھلاڑی کلیئر
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور ابوظہبی ٹی ٹوئنٹی لیگ کے منتظمین کے درمیان نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) پر معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد 16 پاکستانی کرکٹرز کے لیے ٹورنامنٹ میں کھیلنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لیگ منتظمین بورڈ کو 2 لاکھ ڈالر (تقریباً 5.6 کروڑ روپے) تک کا معاوضہ اور سہولتیں فراہم کریں گے۔ ابوظہبی ٹی ٹوئنٹی 7 سے 20 نومبر 2026 تک کھیلا جائے گا۔
معاہدہ کیسے طے پایا
رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ جمعہ 6 نومبر کی صبح سامنے آیا۔ جیو نیوز اور اے اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے ڈرافٹ میں منتخب پاکستانی کھلاڑیوں کو این او سی جاری کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، جبکہ لیگ منتظمین نے اس کے بدلے معاوضے اور سہولتوں کا پیکج دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق معاہدے کی باضابطہ منظوری جمعرات کو دی گئی، یعنی ٹورنامنٹ کے آغاز سے صرف 48 گھنٹے قبل۔
واضح رہے کہ پی سی بی نے ابھی تک اس معاہدے پر کوئی باضابطہ عوامی بیان جاری نہیں کیا ہے — یہ خبر ذرائع پر مبنی رپورٹنگ ہے، تاہم دو الگ پاکستانی ذرائع ایک ہی شرائط بتا رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاہدہ طے پا چکا ہے۔
تنازع کی شروعات: 10 ہزار ڈالر فی این او سی
یہ تنازع اس ہفتے کے شروع میں سامنے آیا تھا۔ ای ایس پی این کرک انفو نے 4 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ پی سی بی نے این او سی جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ہر سرٹیفکیٹ کے لیے 10 ہزار ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ ابوظہبی ٹی ٹوئنٹی انتظامیہ نے 30 ستمبر کو ڈرافٹ مکمل ہونے کے فوراً بعد این او سی کی درخواستیں جمع کرا دی تھیں، لیکن بورڈ نے اپنی مالی شرط صرف اس ہفتے کے آغاز میں بتائی، جس سے لیگ انتظامیہ اور فرنچائزز پریشان ہو گئی تھیں اور متبادل کھلاڑیوں کی تلاش شروع کر دی گئی تھی۔
حتمی ادائیگی کی رقم باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئی، تاہم رپورٹس کے مطابق یہ 10 ہزار ڈالر فی کھلاڑی سے کم ہے۔ 16 کھلاڑیوں کے حساب سے یہ مطالبہ ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر بنتا تھا، جبکہ طے شدہ پیکج نقد رقم اور سہولتوں سمیت 2 لاکھ ڈالر تک کا بتایا جا رہا ہے۔ معاہدے کے تحت پاکستانی کرکٹرز کو اگلے 12 ماہ تک ابوظہبی کرکٹ اینڈ اسپورٹس ہب کی تربیتی اور کرکٹ سہولتوں تک رسائی بھی ملے گی۔
16 پاکستانی کھلاڑی کون کون سے ہیں
30 ستمبر کو ہونے والے ڈرافٹ میں چھ میں سے پانچ ٹیموں نے 16 پاکستانی کھلاڑیوں کو منتخب کیا تھا۔ یو اے ای بلز نے سب سے زیادہ چھ کھلاڑی لیے ہیں: شاداب خان، محمد عامر، خواجہ نافع، خوشدل شاہ، اعظم خان اور محمد وسیم جونیئر۔ یونائیٹڈ ٹائیگرز میں فخر زمان، افتخار احمد، فہیم اشرف، سفیان مقیم اور عباس آفریدی شامل ہیں۔ نسیم شاہ رائل ڈیزرٹ چیمپئنز کا حصہ ہیں، جبکہ عاکف جاوید، حسن نواز اور علی رضا ایمریٹس ایگلز میں ہیں اور سلمان ارشاد عربین ایسیز کے لیے کھیلیں گے۔
پی سی بی کی این او سی پالیسی پر سوالات
پی سی بی کا غیر ملکی لیگز کے لیے این او سی فیس کا مطالبہ نیا نہیں ہے۔ اکتوبر 2026 میں بورڈ نے نیپال پریمیئر لیگ کے لیے منتخب پاکستانی کھلاڑیوں کو این او سی دینے سے انکار کرتے ہوئے فی کھلاڑی 25 ہزار ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی سال میجر لیگ کرکٹ کے لیے بھی 25 ہزار ڈالر فی کھلاڑی کا مطالبہ سامنے آیا تھا، جس کے باعث حارث رؤف اس لیگ میں پاکستان کے واحد کھلاڑی رہ گئے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی ہفتے پی سی بی نے افغانستان پریمیئر لیگ کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں کو این او سی دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد وسیم اکرم نے افغان لیگ کی مینٹر شپ کی پیشکش ٹھکرا دی اور بورڈ کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا — تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3884 — ابوظہبی ٹی ٹوئنٹی کے معاملے میں بورڈ نے بالکل مختلف فیصلہ کیا ہے — مبصرین کے مطابق بورڈ اس وقت دروازہ کھولتا ہے جب شرائط اس کے موافق ہوں۔
آگے کیا ہوگا
ابوظہبی ٹی ٹوئنٹی 7 نومبر سے شروع ہو کر 20 نومبر تک جاری رہے گا، اور یہ پاکستان کی سری لنکا کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز کے ساتھ ساتھ چلے گا، جو 9 نومبر سے راولپنڈی میں شروع ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں شان مسعود ٹیسٹ ٹیم کے مستقبل سے باہر کی خبر بھی سامنے آئی ہے — تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3888 — جس سے ٹیسٹ اسکواڈ کی تشکیل پر بحث جاری ہے۔ پاکستانی شائقین اب نسیم شاہ، شاداب خان اور فخر زمان جیسے ستاروں کو ٹی ٹوئنٹی کے تیز ترین فارمیٹ میں دیکھنے کے منتظر ہیں۔
ماخذ: جیو نیوز، اے اسپورٹس، ای ایس پی این کرک انفو، دی کرنٹ، نکتہ — 6 نومبر 2026