شیخ حسینہ کی حوالگی: بنگلہ دیش کا بھارت سے مطالبہ

0

بنگلہ دیش نے بھارت سے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ ایک بار پھر دہرا دیا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر قانون محمد اسد الزمان نے اتوار 8 نومبر 2026 کو کہا کہ ڈھاکہ نے حسینہ کی واپسی کے لیے بھارت کو حوالگی کی درخواست بھیج رکھی ہے اور حکومت انھیں واپس لانے کے لیے ہر قانونی قدم اٹھا رہی ہے۔

وزیر قانون نے کیا کہا

ڈھاکہ میں ایک تربیتی ورکشاپ کے افتتاح کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر قانون نے شیخ حسینہ کو سزا یافتہ مجرم قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ وزارت داخلہ کے دائرہ کار میں آتا ہے کیونکہ اس کا تعلق بھارت کے ساتھ حوالگی کے معاہدے سے ہے۔

وزیر قانون کے مطابق، “ہم نے معاہدے کے تحت اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے ان کی واپسی کی درخواست کی ہے۔” انھوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں جذبات کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور قانون اپنا راستہ خود طے کرے گا۔

بھارت کا موقف ابھی تک غیر واضح

بھارت نے اس سے پہلے تسلیم کیا ہے کہ اسے بنگلہ دیش کی جانب سے حسینہ کی حوالگی کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں، لیکن نئی دہلی نے انھیں حوالے کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ ابھی تک نہیں سنایا۔ بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ درخواستوں کا جائزہ مقررہ قانونی اور عدالتی طریقہ کار کے تحت لیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پہلی درخواست نومبر 2025 میں سزا سنائے جانے کے فوراً بعد سفارتی نوٹ کے ذریعے بھیجی گئی تھی۔ اگست 2026 تک ڈھاکہ کا کہنا تھا کہ نئی دہلی کی جانب سے درخواست کا کوئی جواب نہیں آیا۔

پس منظر: حسینہ کا اقتدار اور سزا

شیخ حسینہ 5 اگست 2024 کو عوامی احتجاج کے بعد بنگلہ دیش سے بھارت چلی گئی تھیں، جس سے ان کی 15 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کے بین الاقوامی جرائم ٹریبونل نے انھیں جولائی تا اگست 2024 کے احتجاج کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا تھا۔

حسینہ نے خود کسی غلط کام سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنا چاہتی ہیں، چاہے انھیں گرفتاری یا قید کا سامنا کرنا پڑے۔

حوالگی کا معاہدہ کیا کہتا ہے

بھارت اور بنگلہ دیش نے 2013 میں حوالگی کا معاہدہ کیا تھا جو 23 اکتوبر 2013 کو نافذ ہوا۔ معاہدے کے تحت مبینہ جرم دونوں ممالک میں جرم ہونا ضروری ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ اس درخواست کی مرکزی اتھارٹی ہے۔

5 نومبر کو بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر نے کہا تھا کہ حسینہ کی واپسی کے لیے پاسپورٹ یا سفری دستاویز کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ حوالگی کے معاہدے کے تحت انھیں حوالے کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق عدالتی وارنٹ اور قائم شدہ عدالتی طریقہ کار پہلے سے موجود ہے۔

آگے کیا ہوگا

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ اگر حسینہ کو حوالے کیا گیا تو بنگلہ دیش کے قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔ دوسری جانب بھارت کی خاموشی برقرار ہے اور اس معاملے میں کوئی تاریخ یا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ یہ تنازع دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے لیے ایک اہم آزمائش بنا ہوا ہے۔

شیخ حسینہ کے دسمبر میں بنگلہ دیش واپسی کے اعلان پر ہماری رپورٹ یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3742

بنگلہ دیش میں جاری کرکٹ سیریز کی تازہ صورتحال یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3846

ذرائع: دی ہندو، دی اسٹیٹس مین، زی نیوز، ٹیلی گراف انڈیا — 8 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *