MEXC پر امریکی پابندی: 16 ارب ڈالر کا الزام
امریکی محکمہ خزانہ نے دنیا کی بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج MEXC Global کو امریکی مالیاتی نظام سے کاٹنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ محکمہ خزانہ کے مالی جرائم سے نمٹنے والے ادارے فنسن (FinCEN) کے مطابق MEXC نے مئی 2021 سے مئی 2026 کے دوران کم از کم 16 ارب ڈالر کے مشتبہ اور غیر قانونی لین دین میں سہولت فراہم کی۔ یہ حکم 6 نومبر 2026 کو جاری ہوا۔
فنسن کا حکم کیا کہتا ہے
فنسن کے حکم کے تحت امریکی مالیاتی اداروں کو MEXC Global کو فنڈز بھیجنے یا اس سے فنڈز وصول کرنے سے روک دیا جائے گا۔ یہ پابندی اس وقت نافذ ہوگی جب حکم فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے کے 30 دن گزر جائیں گے۔ ابھی تک یہ حکم فیڈرل رجسٹر میں شائع نہیں ہوا، اس لیے پابندی فوری طور پر نافذ نہیں ہوئی۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق MEXC کے ذریعے ہونے والے لین دین کا تعلق روس، ایران اور شمالی کوریا پر عائد پابندیوں سے بچنے کی کوششوں، سائبر کرائم، رینسم ویئر اور دھوکہ دہی سے تھا۔ فنسن نے MEXC کو روس سے منسلک غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے معاملے میں منی لانڈرنگ کا بڑا خدشہ قرار دیا ہے۔
حکم کی قانونی بنیاد
یہ حکم کمبیٹنگ رشین منی لانڈرنگ ایکٹ کی شق 9714(a) کے تحت جاری کیا گیا۔ اس شق کے تحت امریکا کسی غیر ملکی مالیاتی ادارے کے خلاف خصوصی اقدامات کر سکتا ہے۔ فنسن نے چھ ممکنہ اقدامات میں سے سب سے سخت اقدام چنا، یعنی فنڈز کی منتقلی پر مکمل پابندی۔
محکمہ خزانہ نے یہ کارروائی آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت کی، جو ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کی مہم ہے۔ اسی اعلان کے ساتھ ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس سے منسلک آٹھ کینیڈین منی سروسز کاروباروں پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔
MEXC کا موقف اور حجم
MEXC نے کہا ہے کہ وہ فنسن کے حکم کا جائزہ اپنے قانونی اور تعمیل کے ماہرین کے ساتھ لے رہی ہے۔ ایکسچینج کے مطابق اس کا آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے اور صارفین کے اثاثے محفوظ ہیں۔ MEXC نے اپنے اینٹی منی لانڈرنگ کنٹرولز کا آزادانہ جائزہ بھی شروع کر دیا ہے۔
فنسن کے حکم کے مطابق MEXC 2018 میں قائم ہوئی اور سی شلز میں رجسٹرڈ ہے۔ ستمبر 2026 تک ایکسچینج روزانہ ایک ارب ڈالر سے زائد کا لین دین کر رہی تھی اور اس کے پاس تقریباً 5 ارب ڈالر کے ذخائر تھے۔ دسمبر 2025 میں مرکزی کرپٹو ایکسچینجوں کی تجارت میں اس کا حصہ تقریباً 9 فیصد تھا۔ یہ شق 9714 کے تحت نشانہ بننے والی سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج ہے۔
صارفین پر کیا اثر پڑے گا
یہ حکم MEXC پر براہ راست پابندی نہیں ہے اور نہ ہی اس سے صارفین کے اثاثے منجمد ہوتے ہیں۔ یہ امریکی مالیاتی اداروں پر پابندی ہے کہ وہ MEXC سے منسلک فنڈز کی منتقلی نہ کریں۔ ماہرین کے مطابق اس سے امریکی صارفین کے لیے MEXC اور امریکی پلیٹ فارموں کے درمیان ڈالر یا کرپٹو منتقل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ایک اور بڑی ایکسچینج OKX نے اپنے صارفین کو MEXC سے براہ راست منتقلی سے خبردار بھی کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ MEXC نے اعلان کیا تھا کہ وہ روس اور بیلاروس کے صارفین کو خدمات دینا بند کر دے گی۔ کرپٹو مارکیٹ پہلے ہی دباؤ میں ہے؛ گزشتہ ہفتے بٹ کوائن 76 ہزار ڈالر سے نیچے گر گیا تھا اور اسپاٹ بٹ کوائن اور ایتھر ای ٹی ایف سے اربوں ڈالر نکل گئے تھے۔
آگے کیا ہوگا
اب سب کی نظریں فیڈرل رجسٹر میں حکم کی اشاعت پر ہیں، جس کے 30 دن بعد پابندی نافذ ہو جائے گی۔ اس حکم کی کوئی اختتامی تاریخ نہیں ہے۔ MEXC کے لیے اگلا مرحلہ اپنے تعمیل کے نظام کو مضبوط کرنا اور امریکی حکام کے ساتھ بات چیت ہے، جبکہ صارفین کو اپنی رقم کی منتقلی کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے پڑ سکتے ہیں۔
بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ کمی اور مارکیٹ کی صورتحال پر ہماری رپورٹ یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3911
بائنانس کے چیف فنانشل آفیسر کے استعفے اور 6.3 ارب ڈالر کے ہیک کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4166
ذرائع: CoinDesk، crypto.news، TradingView، Bitcoin Insider — 6 تا 7 نومبر 2026