کراکو فائرنگ: ملزم کے گھر سے 3 لاشیں برآمد
پولینڈ کے تاریخی شہر کراکو میں ہفتے کو ہونے والی اندھا دھند فائرنگ کے واقعے میں نیا اور ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ پولیس نے ملزم کے گھر کی تلاشی کے دوران تین مزید لاشیں برآمد کر لیں، جن کی شناخت ملزم کے والدین اور بہن کے طور پر ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 9 ہو گئی ہے، جبکہ پولینڈ میں دو روزہ قومی سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
چوک میں فائرنگ، 6 افراد ہلاک
ہفتے 7 نومبر کی سہ پہر تقریباً تین بجے 24 سالہ پولش شہری نے اپنی گاڑی کراکو کے مشہور مین مارکیٹ اسکوائر میں گھسا دی اور پیدل چلنے والوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کے مطابق حملہ آور نے لائسنس یافتہ اے آر 15 رائفل استعمال کی۔ فائرنگ میں چار خواتین اور دو مرد ہلاک ہوئے، جن میں ایک برطانوی شہری بھی شامل ہے، جبکہ 15 سے 16 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں آسٹریا، برطانیہ، جرمنی، پرتگال اور روس کے شہری بھی شامل ہیں، اور دو پولیس اہلکار بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔
پولیس نے جوابی کارروائی میں ملزم کو گولی مار کر گرفتار کر لیا۔ وہ اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں ملزم کا نام مائیکل او کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وزیر داخلہ مارسن کیروینسکی کے مطابق ملزم فوجی طرز کا لباس پہنے ہوئے تھا اور اس کی گاڑی سے مزید ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔
ملزم کے گھر سے والدین اور بہن کی لاشیں
واقعے کے بعد پولیس نے ملزم کے گھر کی تلاشی لی، جو کراکو سے تقریباً 150 سے 200 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع قصبے اوستروویتس سوینتوکژسکی میں ہے۔ علاقائی پولیس کے مطابق گھر سے ملنے والی تین لاشیں ملزم کے والدین اور بہن کی ہیں — 53 سالہ والد، 52 سالہ والدہ اور 21 سالہ بہن۔ وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ اس بات کے قوی اشارے ہیں کہ ہلاک شدگان ملزم کے قریبی خاندان کے افراد تھے۔ ممکنہ خطرات کے پیش نظر پولیس نے پہلے ڈرون کی مدد سے گھر کے اندر جائزہ لیا تھا۔
تینوں افراد کی موت کے حالات کی تحقیقات جاری ہیں، اور یہ ابھی واضح نہیں کہ ان کی ہلاکت فائرنگ سے پہلے ہوئی یا بعد میں۔
دہشت گردی کی تحقیقات، انتہا پسند نظریات کا شبہ
پولینڈ کے قومی پراسیکیوٹر کے دفتر نے واقعے کی دہشت گردی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وزیر داخلہ کیروینسکی نے بتایا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم انتہائی دائیں بازو کے نظریات سے متاثر تھا، تاہم حتمی محرک ابھی طے نہیں ہوا۔ تحقیقات میں پولیس، پراسیکیوٹرز، پولینڈ کی داخلی سلامتی ایجنسی اور فوجی انسداد جاسوسی سروس شامل ہیں۔
وزیر اعظم ٹسک نے اس واقعے کو دہشت گردی کا عمل قرار دیا ہے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی متاثرین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
ملک بھر میں قومی سوگ
صدر کرول ناوروکی نے 8 اور 9 نومبر کو ملک بھر میں دو روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے، جبکہ کراکو شہر میں سوگ 11 نومبر تک جاری رہے گا۔ اتوار کی صبح مین مارکیٹ اسکوائر کو سرخ و سفید ٹیپ سے بند کر دیا گیا تھا، جہاں شہری موم بتیاں جلا کر ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے۔ شہر بھر میں سیاہ جھنڈے اور سیاہ ربن والے پولش پرچم لہرائے گئے۔
کراکو پولینڈ کا دوسرا بڑا شہر اور یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ ہے، جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ اس واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے مکمل ہونے تک سیکیورٹی اقدامات سخت رہیں گے۔
آگے کیا ہوگا
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اس وقت زیر حراست ہے اور اس کی صحت بہتر ہونے پر اس سے تفتیش کی جائے گی۔ تفتیش کار ملزم کے نظریاتی پس منظر، برآمد شدہ ہتھیاروں، اس کے گھر میں ہونے والی ہلاکتوں اور حملے سے پہلے کے واقعات کی کڑیاں جوڑ رہے ہیں۔
مزید تفصیل کے لیے ہماری متعلقہ خبریں دیکھیں: کراکو فائرنگ کا پہلا واقعہ اور کیف پر روس کا بڑا حملہ۔
ماخذ: کوریا ٹائمز، دی اسٹریٹس ٹائمز، خلیج ٹائمز، این ڈی ٹی وی — 8 نومبر 2026