کراکو فائرنگ: ملزم کے گھر سے 3 مزید لاشیں برآمد

0

پولینڈ کے تاریخی شہر کراکو میں ہفتے کے روز ہونے والی فائرنگ کے بعد پولیس کو ملزم کے گھر کی تلاشی کے دوران تین مزید لاشیں ملی ہیں، جس سے اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 9 ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کے گھر سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔

گھر سے کیا ملا؟

پولیس نے ملزم کے آبائی شہر اوسٹروویئتس شوئینٹوکرزسکی میں واقع اس کے گھر کی تلاشی لی تو وہاں دو خواتین اور ایک مرد کی لاشیں ملیں۔ وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے کراکو میں بحران پر ہونے والے اجلاس کے بعد بتایا کہ اس بات کے مضبوط اشارے موجود ہیں کہ یہ تینوں افراد ملزم کے قریبی خاندان کے ارکان ہیں۔ پولیس نے ملزم کی گاڑی سے بھی اسلحے اور گولہ بارود کی بڑی مقدار برآمد کی ہے۔

کراکو میں کیا ہوا تھا؟

ہفتے کی سہ پہر تقریباً تین بجے 25 سالہ ملزم نے فوجی طرز کے کپڑے پہن کر کراکو کے مرکزی بازار میں اپنی گاڑی سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی تھی۔ فائرنگ میں چار خواتین اور دو مرد ہلاک جبکہ 16 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں پانچ غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں جن کا تعلق آسٹریا، جرمنی، پرتگال، روس اور برطانیہ سے ہے۔ پولیس نے جوابی کارروائی میں ملزم کو گولی مار کر زخمی کر دیا اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ملزم کے خیالات پر انکشاف

پولینڈ کے وزیر داخلہ مارچن کیرونسکی نے بتایا کہ ملزم انتہائی دائیں بازو کے نظریات سے متاثر تھا اور اس کے خیالات بہت انتہا پسندانہ تھے۔ وزیر داخلہ کے مطابق ہر چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حملہ آور انتہائی دائیں بازو کے نظریے سے متاثر تھا اور اس پہلو کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ پولینڈ کے وزیر دفاع نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ملزم فوجی تھا، اور واضح کیا کہ اس کا مسلح افواج سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

زخمی پولیس اہلکاروں کی حالت

فائرنگ میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ وزیر انصاف والدیمار زورک نے بتایا کہ ایک اہلکار کا ایک پھیپھڑا کام نہیں کر رہا اور اسے فوری طور پر اے بی پازیٹو خون کی ضرورت ہے، جس پر شہریوں سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ وزیر اعظم ٹسک نے دونوں اہلکاروں کو ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بہت سے لوگوں کی جانیں بچائیں۔

کراکو کے میئر نے شہر میں 11 نومبر تک سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ کراکو کا مرکزی بازار سیاحوں اور مقامی لوگوں میں بہت مقبول ہے اور یہ شہر یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ چیک جمہوریہ، سلوواکیہ اور یوکرین سمیت ہمسایہ ممالک نے اس حملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل کراکو فائرنگ کی پہلی خبر میں 6 ہلاکتوں اور 15 زخمیوں کی تفصیل دی گئی تھی (https://ntmnews.online/?p=4076)، جبکہ یورپ میں تشدد کا ایک اور واقعہ ترکی میں پیش آیا تھا جہاں فائرنگ میں 8 افراد ہلاک ہوئے تھے (https://ntmnews.online/?p=3865)۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کے محرکات ابھی واضح نہیں ہیں۔

ذرائع: سی این این، ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز، نیوز 9 لائیو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *