جاپان میں 5.7 شدت کا زلزلہ، 22 افراد زخمی
وسطی جاپان میں اتوار کی صبح 5.7 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا جس سے کم از کم 22 افراد زخمی ہو گئے، دکانوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور لوگ خوف کے مارے عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ جاپان کی محکمہ موسمیات نے زلزلے کی شدت 5.7 جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے نے 5.5 ریکارڈ کی ہے۔
زلزلہ کہاں اور کب آیا؟
زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات ایک بج کر چار منٹ پر آیا۔ اس کا مرکز صوبہ شیزوکا میں زمین سے تقریباً 40 کلومیٹر نیچے تھا۔ سب سے شدید جھٹکے صوبہ آئیچی میں محسوس کیے گئے جبکہ ہاماماتسو شہر، قدیم دارالحکومت کیوٹو اور نارا، اور ماؤنٹ فوجی والے صوبہ یاماناشی سمیت وسیع علاقے میں بھی جھٹکے محسوس ہوئے۔ زلزلے کے بعد چھوٹے آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے۔
کتنا نقصان ہوا؟
مقامی میڈیا کے مطابق زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو عمارتوں سے نکلتے ہوئے سیڑھیوں سے گر گئے۔ دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور سڑکوں پر ملبہ بکھر گیا۔ اب تک کسی بڑے پیمانے پر عمارتوں کے گرنے کی اطلاع نہیں ملی۔ ہنگامی خدمات متاثرہ علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں اور ریلوے سمیت ٹرانسپورٹ کے نظام میں خلل کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
حکام کی وارننگ
جاپان کی محکمہ موسمیات نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ ہفتے، خاص طور پر اگلے دو سے تین دنوں کے دوران، مزید طاقتور جھٹکے آ سکتے ہیں۔ حکام نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔
جاپان میں زلزلے کیوں عام ہیں؟
جاپان دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ ملک چار بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں کے ملنے کی جگہ پر واقع ہے۔ یہاں ہر سال ہزاروں زلزلے آتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ہلکے ہوتے ہیں، لیکن 5 یا اس سے زیادہ شدت کے جھٹکے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ جاپان میں عمارتوں کے سخت تعمیراتی معیارات اور جدید وارننگ سسٹم کی وجہ سے عام طور پر جانی نقصان کم ہوتا ہے۔
خطے میں گزشتہ ماہ افغانستان میں آنے والے زلزلے نے بھی ہندوکش کا علاقہ ہلا دیا تھا (https://ntmnews.online/?p=1956)، جبکہ تبت میں 7.0 شدت کے زلزلے سے 16 افراد ہلاک ہوئے تھے (https://ntmnews.online/?p=1449)۔ ماہرین کے مطابق ایشیا کے اس پورے خطے میں زلزلہ خیز سرگرمیاں جاری ہیں اور متعلقہ ممالک کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔
زلزلے کے بعد جاپانی حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس، عرب نیوز، ٹائمز آف اسرائیل، کوریا ٹائمز