آرامکو ٹاور ریاض: حملے کی کوشش ناکام، کوئی جانی نقصان نہیں

0

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعودی آرامکو کی ایک عمارت پر حملے کی کوشش کی گئی ہے۔ سعودی وزارت توانائی کے مطابق گرنے والے ملبے سے عمارت کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سعودی فضائی دفاع نے اسی دوران یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے میزائل تباہ کر دیے۔

آرامکو عمارت کو معمولی نقصان

سعودی وزارت توانائی کے ایک عہدیدار نے اتوار کو بتایا کہ ریاض میں سعودی آرامکو سے تعلق رکھنے والی ایک انتظامی عمارت پر حملے کی کوشش کی گئی۔ عہدیدار کے مطابق حملے کے نتیجے میں گرنے والے ملبے سے عمارت کو محدود نقصان پہنچا، اور خوش قسمتی سے کوئی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔ متعلقہ حکام نے فوری طور پر صورتحال سنبھال لی اور ضروری اقدامات شروع کر دیے۔

عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ (کے اے ایف ڈی) میں واقع آرامکو ٹاور کو نشانہ بنایا گیا۔ رائٹرز کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ٹاور کی کئی منزلوں کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی دیکھی گئیں اور عمارت کے اگلے حصے کو نقصان پہنچا۔ کے اے ایف ڈی سعودی عرب کی معاشی اور سماجی اصلاحات کی سب سے نمایاں علامتوں میں سے ایک ہے، جہاں بلند و بالا دفتری عمارتیں، تجارتی مراکز اور رہائشی سہولیات موجود ہیں۔

فضائی دفاع نے میزائل تباہ کر دیے

سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر بتایا کہ فضائی دفاع نے ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے۔ عرب نیوز کے مطابق ریاض اور جنوبی علاقوں میں دو کروز میزائل اور ایک ڈرون بھی تباہ کیا گیا، جبکہ مشرقی صوبے کی طرف آنے والا ایک میزائل بھی فضائی دفاع نے روک لیا۔

سعودی سول ڈیفنس نے اتوار کی صبح ریاض شہر اور نجران صوبے میں ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری کی تھی، جو کچھ دیر بعد واپس لے لی گئی۔ بقیق اور الاحسا گورنریٹس اور دمام شہر کے لیے بھی وارننگ جاری کی گئی تھی، جو خطرہ ٹلنے پر فوری طور پر ختم کر دی گئی۔ رائٹرز کے مطابق وارننگ کے کچھ ہی دیر بعد ریاض میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

حوثیوں کا دعویٰ

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گروپ نے سعودی عرب بھر میں اسٹریٹجک اور فوجی تنصیبات کے خلاف چھ فوجی کارروائیاں کیں۔ ان کے دعوے کے مطابق حملوں میں ریاض میں کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ، آرامکو کی تنصیبات اور خریص میں تیل کی تنصیبات اور دوادمی میں پمپنگ اسٹیشن نمبر 8 شامل تھے۔ یہ دعویٰ حوثیوں کی جانب سے کیا گیا ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اتحاد کے مطابق نومبر کے آغاز سے اب تک مملکت بھر میں 15 سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل اور ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں۔ ہفتے کو ریاض کی طرف آنے والا ایک کروز میزائل تباہ کیا گیا، جبکہ 6 نومبر کو ریاض اور مکہ کے علاقوں میں دو ڈرون گرائے گئے۔ 5 نومبر کو مدینہ کی طرف آنے والا بیلسٹک میزائل اور 3 نومبر کو تین ڈرون بھی تباہ کیے گئے تھے۔

ہوائی سفر اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر

حوثیوں کے حملوں کے حالیہ سلسلے نے سعودی عرب میں شہری ہوابازی کو شدید متاثر کیا ہے۔ اکتوبر میں حملوں کے بعد ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آپریشن معطل کر دیا گیا تھا، اور کئی بین الاقوامی ایئر لائنز نے نومبر تک ریاض کے لیے اپنی پروازیں معطل رکھیں۔ دمام، ابھا اور نجران کے ہوائی اڈے بھی متاثر ہوئے۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب سعودی وزارت تعلیم نے ہفتے کی رات اعلان کیا تھا کہ ہفتوں سے جاری آن لائن تعلیم کے بعد ریاض میں کلاسیں دوبارہ معمول کے مطابق شروع ہو رہی ہیں۔

وسیع تر علاقائی کشیدگی

حوثیوں کی جانب سے سعودی اہداف پر حملوں میں اضافہ وسیع تر علاقائی کشیدگی کے دوران ہو رہا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق یہ کشیدگی امریکہ اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے پس منظر میں بڑھی ہے، جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔ ایران کے حامی حوثیوں نے اس کشیدگی کے دوران سعودی اہداف پر حملے تیز کر دیے ہیں، جس سے شہری انفراسٹرکچر، توانائی کی فراہمی اور سمندری راستوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ وہ حملوں کو روکنے اور مملکت و خطے کی سلامتی کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید تفصیل کے لیے ہماری متعلقہ خبریں دیکھیں: سعودی عرب: حوثیوں کے 5 میزائل تباہ اور یمن بازار حملہ: 30 ہلاک۔

ماخذ: عرب نیوز، چینل نیوز ایشیا، ڈیلی صباح، گلف نیوز، رائٹرز — 8 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *