پیٹرول 9.41 روپے سستا، نئی قیمت 352.59 روپے فی لیٹر

0

وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 9.41 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.56 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 362 روپے سے کم ہو کر 352.59 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے، جبکہ ڈیزل 387.81 روپے سے کم ہو کر 382.25 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ نئی قیمتیں جمعہ 6 نومبر سے نافذ ہیں۔ یہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز کمی ہے، اور چار روز میں پیٹرول مجموعی طور پر 25.32 روپے اور ڈیزل 20.71 روپے سستا ہو چکا ہے۔

نئی قیمتیں کیا ہیں؟

اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق 6 نومبر سے پیٹرول کی نئی قیمت 352.59 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 382.25 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس سے ایک روز قبل بدھ کو پیٹرول 7.06 روپے کمی سے 362 روپے اور ڈیزل 3.71 روپے کمی سے 387.81 روپے فی لیٹر ہوا تھا۔ گزشتہ روز کی قیمتوں کی تفصیل یہاں پڑھیں حکومت نے پیر کو اعلان کردہ 30 روزہ انتظام کے تحت آئل ریفائنریز سے پیٹرولیم لیوی میں مجموعی طور پر 15 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنے کا معاہدہ کیا ہے، جس سے صارفین کو ریلیف دینے میں مدد ملی ہے۔

قیمتوں میں کمی کیوں ہوئی؟

قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہے۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے کی امیدوں پر بدھ کو خام تیل کی قیمتیں دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔ حکومت نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لینے کا نظام اپنایا ہے، جس کے تحت عالمی قیمتوں میں تبدیلی کا فائدہ صارفین تک جلد پہنچایا جاتا ہے۔ اوگرا نے شفافیت کے لیے اپنی ویب سائٹ پر روزانہ پیٹرولیم قیمتیں شائع کرنا بھی شروع کر دی ہیں۔ عالمی تیل مارکیٹ کی تازہ صورتحال یہاں پڑھیں

صارفین پر ٹیکس کا بوجھ برقرار

قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرول پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کا بوجھ برقرار ہے۔ حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 114 روپے اور ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے لیے بھی اسی طرح کا نظام لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

روزانہ قیمتوں کے جائزے کے نظام کے تحت کل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے رجحان پر منحصر ہوں گی۔ اگر عالمی سطح پر تیل سستا رہا تو مقامی قیمتوں میں مزید کمی ممکن ہے، جبکہ عالمی قیمتوں میں اضافہ مقامی قیمتوں کو بھی اوپر لے جا سکتا ہے۔ صارفین کو مشورہ ہے کہ وہ اوگرا کی روزانہ جاری ہونے والی قیمتوں پر نظر رکھیں۔

ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز، آج ٹی وی، عرب نیوز، بزنس ریکارڈر — 5 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *