لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر، اے کیو آئی 355

0

لاہور جمعرات کے روز ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین بڑا شہر بن گیا، جب ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 355 تک پہنچ گیا۔ عالمی فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق صبح 8 سے 9 بجے کے درمیان لاہور عالمی فہرست میں پہلے نمبر پر تھا، جبکہ بھارت کا دارالحکومت دہلی 271 اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح کہیں زیادہ خطرناک رہی۔ برکی روڈ پراگون بی میں اے کیو آئی 575، سی ای آر پی دفتر میں 539، علامہ اقبال ٹاؤن میں 529 اور رائیونڈ میں 536 ریکارڈ کیا گیا۔ کہنہ کے علاقے میں ذرات کی سطح 460 تک پہنچی۔ آئی کیو ایئر نے لاہور کی فضا کو خطرناک قرار دیتے ہوئے ہنگامی صحت وارننگ جاری کی ہے۔

پنجاب کے دیگر شہر بھی متاثر

سموگ صرف لاہور تک محدود نہیں، پنجاب کے وسطی اور جنوبی حصے بھی شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں۔ سرگودھا میں اے کیو آئی 418، بہاولپور میں 380، ملتان میں 374، فیصل آباد میں 371 اور گوجرانوالہ میں 367 ریکارڈ کیا گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی پنجاب کے شہر سموگ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں اور حکام اس پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سموگ دھند اور آلودگی کا مرکب ہے، جو کم درجے کے ڈیزل کے دھوئیں، فصلوں کی باقیات جلانے اور درجہ حرارت گرنے سے بنتا ہے۔

صحت کے لیے خطرہ

ماہرین کے مطابق 300 سے اوپر اے کیو آئی خطرناک سمجھا جاتا ہے، اور لاہور کے کئی علاقوں میں یہ سطح اس سے کہیں زیادہ ہے۔ آلودہ فضا بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے خاص طور پر خطرناک ہے۔

شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر جانے سے گریز کریں، باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں اور صبح کے وقت گاڑی چلاتے وقت احتیاط کریں، کیونکہ دھند کی وجہ سے حد نگاہ کم ہو جاتی ہے۔

سموگ کی وجوہات اور حکومت کے اقدامات

پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کا سلسلہ اکتوبر کے آخر سے نومبر کے وسط تک عروج پر ہوتا ہے، جس سے فضا میں دھواں بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اینٹوں کے بھٹے اور حرارتی ایندھن کا استعمال بھی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔

حکومت پنجاب نے سڑکوں کی دھلائی کے لیے واٹر ٹرک اور مسٹ گنز تعینات کی ہیں، جبکہ “چمکتا لاہور” مہم کے تحت صفائی اور دھول پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ دھواں چھوڑنے والی سرگرمیوں کی اطلاع گرین پنجاب ایپ یا محکمہ ماحولیات کی ہیلپ لائن 1373 پر دی جا سکتی ہے۔

قومی آفات انتظام اتھارٹی کے موسمی جائزے کے مطابق نومبر کے وسط سے دسمبر تک سموگ کا خطرہ مزید بڑھے گا، کیونکہ راتیں ٹھنڈی ہوں گی اور درجہ حرارت کا الٹاؤ مضبوط ہوگا۔ جمعے کو لاہور میں موسم جزوی طور پر ابر آلود رہنے اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 ڈگری رہنے کی پیش گوئی ہے، بارش کا کوئی امکان نہیں، جس سے فوری ریلیف کی امید کم ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور میں سموگ، اے کیو آئی 530 تک پہنچ گیا
مزید پڑھیں: پنجاب میں فصلوں کی آگ: 13,241 واقعات، سموگ خطرہ

ماخذ: اے آر وائی نیوز، ڈیلی پاکستان، آئی کیو ایئر — 5 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *