رضوان کی ڈبل سنچری، پشاور 503 رنز پر ڈکلیئر
محمد رضوان نے قائداعظم ٹرافی گولڈ ٹورنامنٹ میں 12 سال بعد ڈبل سنچری بنا دی ہے۔ پشاور ریجن بلیوز کے لیے کھیلتے ہوئے رضوان نے ایبٹ آباد میں فیصل آباد کے خلاف 252 گیندوں پر ناقابل شکست 200 رنز بنائے، جس میں 35 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ ان کی اس اننگز کی بدولت پشاور نے پہلی اننگز 503 رنز پر 4 وکٹوں کے نقصان پر ڈکلیئر کر دی۔
دوسرے دن رضوان نے سنچری کو ڈبل سنچری میں بدلا
رضوان نے پہلے دن کا کھیل 111 رنز پر ناقابل شکست ختم کیا تھا، جب پشاور کا اسکور 127 رنز پر 3 وکٹوں کے نقصان کے بعد سنبھل رہا تھا۔ دوسرے دن انہوں نے نجب خان کے ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے 246 رنز کی بڑی شراکت مکمل کی۔ نجب خان نے 133 رنز بنائے، جو ان کی مسلسل دوسری بڑی اننگز تھی۔ اس کے بعد رضوان نے محمد حارث کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 130 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم کی اور ٹیم کو 503 رنز تک پہنچا کر اننگز ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
12 سال بعد دوسری ڈبل سنچری
یہ رضوان کے فرسٹ کلاس کیریئر کی دوسری ڈبل سنچری ہے۔ اس سے قبل انہوں نے 2014 میں 224 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ یہ ان کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں 16 ویں سنچری بھی ہے۔ 34 سالہ وکٹ کیپر بیٹر نے پاکستان کے لیے 2016 میں ڈیبیو کیا تھا اور اب تک 47 ٹیسٹ میچوں میں 2,682 رنز بنا چکے ہیں، جن میں 3 سنچریاں اور 14 نصف سنچریاں شامل ہیں۔
ٹیم سے باہر ہونے کے بعد جواب
رضوان کی یہ اننگز ایسے وقت میں آئی ہے جب وہ پاکستان ٹیم سے باہر ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں چار اننگز میں صرف 61 رنز بنانے کے بعد انہیں ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تھا، اور وہ 9 نومبر سے راولپنڈی میں سری لنکا کے خلاف شروع ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے اسکواڈ میں بھی شامل نہیں ہیں۔ ان کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی تحقیقات کی خبریں بھی زیر بحث ہیں، تاہم ڈومیسٹک کرکٹ میں اس ڈبل سنچری کو ان کا بھرپور جواب قرار دیا جا رہا ہے۔
میچ کی صورتحال
قائداعظم ٹرافی گولڈ ٹورنامنٹ کے پہلے راؤنڈ کے چار میچ اسلام آباد، راولپنڈی اور ایبٹ آباد میں کھیلے جا رہے ہیں۔ پشاور نے پہلے دن 306 رنز پر 3 وکٹیں گنوائی تھیں، اور دوسرے دن 503 رنز پر اننگز ڈکلیئر کر کے میچ میں مضبوط گرفت حاصل کر لی ہے۔ فیصل آباد کو اب پشاور کے بڑے اسکور کا جواب دینا ہے۔
مزید پڑھیں: قائداعظم ٹرافی: رضوان، نجب کی سنچریاں، پشاور 306/3 (https://ntmnews.online/?p=3525) اور پاکستان ون ڈے رینکنگ میں چوتھے نمبر پر (https://ntmnews.online/?p=3463)۔
ماخذ: وزڈن، 4 نومبر 2026؛ ڈان، 4 نومبر 2026؛ ٹریبیون، 4 نومبر 2026۔