ایمان مزاری اور ہادی علی کو 10 سال قید پر عالمی مذمت

0

انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کو 10 سال قید کی سزا سنائے جانے پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہفتہ 31 اکتوبر 2026 کو شدید مذمت کی ہے۔ امریکا کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دونوں کی سزائیں فوری طور پر ختم کریں، انہیں رہا کریں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائیاں بند کریں۔

عدالت کا فیصلہ کیا تھا؟

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو دونوں کو سیکیورٹی رکاوٹیں ہٹانے کے مقدمے میں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ فیصلہ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سنایا گیا، جہاں دونوں کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ہر ایک پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

عدالتی حکم کے مطابق دونوں کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 186 کے تحت ایک سال اور دفعہ 353 کے تحت دو سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں، ہر دفعہ پر 50، 50 ہزار روپے جرمانے کے ساتھ۔ تاہم تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی، اس لیے مجموعی طور پر ہر ایک کو 10 سال قید کاٹنی ہوگی۔ فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے سنایا۔

مقدمہ کس واقعے سے متعلق ہے؟

استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران سیکیورٹی انتظامات میں مبینہ رکاوٹ سے متعلق ہے۔ الزام ہے کہ جوڑے نے اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹا کر سرکاری اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالی اور پولیس اہلکاروں سے الجھاؤ ہوا۔ مقدمہ اسلام آباد کے کوہسار تھانے میں سٹی مجسٹریٹ کی شکایت پر درج ہوا تھا، اور دونوں پر 7 اکتوبر 2026 کو باضابطہ فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

دوسری جانب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے الزامات کی تردید کی ہے اور ان کا موقف رہا ہے کہ انہیں انسانی حقوق کے کام کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایمان مزاری کی والدہ کے مطابق فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی۔

پہلے بھی سزا اور رہائی کا معاملہ

یہ جوڑا اس سے پہلے بھی ایک الگ مقدمے میں زیر حراست رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں کو 23 جنوری 2026 کو سوشل میڈیا پوسٹوں سے متعلق ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، جس میں سیشن عدالت نے اگلے ہی روز انہیں 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سپریم کورٹ نے 17 ستمبر کو وہ سزائیں معطل کر دی تھیں، تاہم اسی روز پولیس نے انہیں سیکیورٹی رکاوٹوں والے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔

عالمی ردعمل کیا ہے؟

ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں اور کارکنوں نے 31 اکتوبر کو اس فیصلے کو شہری معاشرے کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت قرار دیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین کا انسانی حقوق کے وکیلوں کے خلاف استعمال تشویش ناک ہے اور اس سے عدالتی آزادی اور اختلاف رائے کی گنجائش کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔

حکومت یا استغاثہ کی جانب سے ان تنقیدوں پر ابھی کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اپیل کا عمل سپریم کورٹ میں چلے گا، جہاں فیصلے کی قانونی بنیادوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

پاکستان میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی صورتحال پر ہماری صحافیوں پر لا فئیر کی رپورٹ (https://ntmnews.online/?p=2944) اور سندھ کی انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججوں کی بحالی کی خبر (https://ntmnews.online/?p=1338) بھی پڑھیں۔

ماخذ: دی ایکسپریس ٹریبیون، روئٹرز، ہیومن رائٹس واچ اور گلف نیوز، 29 تا 31 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *