اسرائیل انتخابات: نیتن یاہو بلاک 53 نشستوں پر آگے

0

اسرائیل کے عام انتخابات کے حتمی نتائج جمعہ 30 اکتوبر کی صبح جاری کر دیے گئے ہیں، جن کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا بلاک 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، لیکن 61 نشستوں کی اکثریت سے 8 نشستیں کم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی حکومت بنانے کے لیے نیتن یاہو کو اتحادیوں کی حمایت درکار ہوگی، اور عرب جماعتوں کی 19 نشستیں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

حتمی اعداد: 53، 48 اور 19

مرکزی انتخابی کمیٹی کے جاری کردہ حتمی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکود 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی واحد جماعت برقرار ہے۔ سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن بلاک نے 48 نشستیں حاصل کیں، جبکہ عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتیں۔ عرب نشستوں میں جوائنٹ لسٹ کی 11 اور رعام کی 8 نشستیں شامل ہیں۔ دونوں بلاک اکثریت سے دور ہیں، اس لیے حکومت سازی کے مذاکرات مشکل ہونے کا امکان ہے۔

یہ نتائج نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ ان کے بلاک کے پاس گزشتہ پارلیمنٹ میں عروج کے وقت 68 نشستیں تھیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ 67 نشستیں ان جماعتوں کے پاس ہیں جو تبدیلی چاہتی ہیں، جن میں اپوزیشن بلاک کی 48 اور عرب جماعتوں کی 19 نشستیں شامل ہیں۔

دھاندلی کے الزامات مسترد، صدر سے مشاورت آگے

لیکود کی جانب سے ووٹ چوری ہونے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم خبر رساں اداروں کے مطابق انتخابی حکام نے دھاندلی اور بیرونی مداخلت کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ الزامات غیر مصدقہ قرار دیے گئے ہیں۔ مرکزی انتخابی کمیٹی کے چیئرمین نے اس معاملے کی تحقیقات کا بھی حکم دیا تھا، لیکن کمیٹی نے واضح کیا کہ تحقیقات کا حتمی نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

حتمی نتائج بدھ کو صدر اسحاق ہرزوگ کو باضابطہ طور پر پیش کیے جائیں گے، جس کے بعد صدر پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور پھر کسی ایک رہنما کو حکومت بنانے کی کوشش کا مینڈیٹ دیں گے۔ مبصرین کے مطابق عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی نے انہیں کنگ میکر بنا دیا ہے، اور ان کے بغیر کسی بھی بلاک کے لیے اکثریت حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

آگے کیا ہوگا؟

اب سب کی نظریں اتحادی مذاکرات پر ہیں۔ نیتن یاہو کو اپنی حکومت بچانے کے لیے یا تو عرب جماعتوں سے کسی سطح پر مفاہمت کرنا ہوگی یا اپوزیشن کے اندر سے حمایت حاصل کرنا ہوگی، جو دونوں ہی مشکل راستے ہیں۔ دوسری جانب آئزن کوٹ بلاک بھی اکثریت سے 13 نشستیں کم ہے، اس لیے اسے بھی عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر حکومت بنانا ممکن نہیں۔ یہ صورتحال اسرائیل میں ایک طویل اور پیچیدہ حکومت سازی کے عمل کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

مزید عالمی سیاسی پیش رفت کے لیے یہ خبریں بھی پڑھیں:

اسرائیل: نیتن یاہو ہٹانے کی کوشش، گولان کی عباس سے ملاقات

ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا

ماخذ: عرب نیوز، گلف نیوز، آن منورما اور ہاریٹز کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس؛ اعداد مرکزی انتخابی کمیٹی کے حتمی نتائج سے لیے گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *