ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی — “ایک اور ایپک فیوری” ممکن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف “ایک اور چھوٹی ایپک فیوری” آپریشن کر سکتا ہے۔ انہوں نے جمعہ 23 اکتوبر کو فلوریڈا کے شہر فورٹ مائرز میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ایران پر نئے حملے کے امکان کا اشارہ دیا، حالانکہ انہوں نے مزید تفصیل نہیں دی۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق “ایپک فیوری” وہی نام ہے جو امریکی فوج ایران کے خلاف اپنی جنگ کے لیے استعمال کرتی ہے۔
ٹرمپ نے کہا: “ہم ایک اور چھوٹی ایپک فیوری کر سکتے ہیں” — لیکن انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس دھمکی کا مطلب کیا ہوگا اور کب عمل میں آ سکتی ہے۔
جنگ آٹھویں ماہ میں داخل
ٹرمپ کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ اپنے آٹھویں ماہ کے قریب پہنچ رہی ہے۔ یہ جنگ رواں سال فروری کے آخر میں شروع ہوئی تھی۔ رائٹرز کے مطابق امریکی اسرائیلی حملوں میں ایران میں ہزاروں افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسی ریلی میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا جنگ کو جلد ختم کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا واشنگٹن کو جنگ کا فوری خاتمہ تلاش کرنا چاہیے یا اسے بتدریج ختم ہونے دینا چاہیے۔
مڈ ٹرم الیکشن سے پہلے حملہ نہیں — مگر بعد میں؟
رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ امریکا مڈ ٹرم انتخابات (3 نومبر 2026) سے پہلے ایران پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔ تاہم امریکی میڈیا میں مسلسل رپورٹس آ رہی ہیں کہ مڈ ٹرم الیکشن کے بعد ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے منصوبے زیر غور ہیں۔ اسرائیل میں بھی 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔
ٹرمپ کے ایلچی ایمبیسیڈر بیراک نے حال ہی میں کہا تھا کہ امریکا اس ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے — لیکن جب ٹرمپ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے خود کو اس بیان سے دور کرتے ہوئے کہا: “میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔”
ایران سے مذاکرات کی اپیل
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایرانی حکام سے امریکی مطالبات تسلیم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا: “اگر وہ سمجھدار ہیں تو کہیں گے ‘آؤ سنجیدگی سے بات کریں’ — لیکن مجھے شک ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ “ایران ختم ہو چکا ہے” اور امریکا نے اسے فوجی، مالی اور دیگر محاذوں پر شکست دے دی ہے۔
تیل کی قیمتوں پر اثر
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا دباؤ امریکی مڈ ٹرم انتخابات پر بھی پڑ رہا ہے۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے استنبول میں خبردار کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مزید کشیدگی سے تیل کی قیمتوں پر “انتہائی سنگین” اثرات پڑیں گے۔
دوسری جانب ایرانی انقلابی گارڈز نے کہا ہے کہ دو تیل بردار بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں “غیر مجاز راستہ” استعمال کرنے کی کوشش کے دوران بحری سرنگوں سے ٹکرا گئے — یہ دعویٰ ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے، جس کی آزاد تصدیق نہیں ہو سکی۔
متعلقہ خبریں
ایران کا دعویٰ: خلیج فارس میں چار تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر آگ لگا دی
ایران سے امن معاہدہ “انتہائی مشکل” — امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اعتراف
ماخذ: رائٹرز، الجزیرہ، ٹائمز آف اسرائیل (23 اکتوبر 2026)