ٹرمپ کو بی بی سی مقدمے میں حلفیہ بیان کا حکم

0

امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حکم دیا ہے کہ وہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف اپنے 10 ارب ڈالر کے ہتک عزت کے مقدمے میں 11 دسمبر تک حلفیہ بیان (ڈپوزیشن) دیں۔ رائٹرز کے مطابق عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے مقررہ تاریخ تک حلف پر سوالات کے جوابات نہ دیے تو ان پر پابندیاں لگ سکتی ہیں، جن میں مقدمہ خارج کرنا بھی شامل ہے۔

یہ حکم میامی میں جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران امریکی مجسٹریٹ جج انجولیک لیٹ نے جاری کیا۔ بی بی سی کے وکیل چارلس ٹوبن نے عدالت کو بتایا کہ ٹرمپ نے 16 اکتوبر کو طے شدہ ڈپوزیشن منسوخ کر دی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ قومی اہمیت کے امور مصروف ہیں، حالانکہ مبینہ طور پر اسی دن وہ جارجیا میں انتخابی مہم اور مار-ا-لاگو میں فنڈ ریزر میں مصروف تھے۔

مقدمہ کیسے شروع ہوا؟

ٹرمپ نے دسمبر 2025 میں فلوریڈا کی وفاقی عدالت میں بی بی سی پر مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ بی بی سی کے پروگرام پینوراما نے 6 جنوری 2021 کی ان کی تقریر کے دو الگ حصوں کو جوڑ کر ایسا تاثر پیدا کیا کہ گویا انہوں نے اپنے حامیوں کو براہ راست امریکی کیپیٹل پر دھاوا بولنے پر اکسایا تھا۔

بی بی سی نے اعتراف کیا ہے کہ اس ایڈیٹنگ سے گمراہ کن تاثر پیدا ہوا تھا اور اس پر معذرت بھی کی، تاہم نشریاتی ادارے کا موقف ہے کہ یہ نشریات ہتک عزت کے قانونی معیار پر پورا نہیں اترتی۔

ٹرمپ کی ٹیم کا موقف اور جج کے فیصلے

ٹرمپ کے وکیلوں نے عدالت میں موقف اپنایا کہ صدر اپنی سرکاری ذمہ داریوں کی وجہ سے مصروف ہیں اور 11 سے 22 جنوری کے درمیان دستیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم جج نے ان کے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے 11 دسمبر کی ڈیڈ لائن برقرار رکھی اور یہ بھی حکم دیا کہ ڈپوزیشن کی ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت ہوگی، جو تقریباً سات گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی کو محفوظ کرے گی۔

واضح رہے کہ یہ حکم طریقہ کار کا ہے — اس سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا کہ بی بی سی نے ٹرمپ کی ہتک عزت کی یا نہیں۔ یہ حکم صرف یہ طے کرتا ہے کہ ٹرمپ کو مقررہ تاریخ تک حلف پر بی بی سی کے وکیلوں کے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔

اس معاملے سے جڑی مزید بین الاقوامی خبریں: مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر امریکا اور اسرائیل کے نئے حملوں کی تیاری اور ارامکو کا دھہران ہیڈکوارٹر خالی — حوثی جنگ میں پہلی انخلا۔

ذرائع: Reuters، BBC News، Law Commentary

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *