کوئٹہ میں گندے پانی سے سبزیوں کی آبیاری پر ہائی کورٹ برہم

0

بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ اور گرد و نواح میں گندے پانی سے سبزیوں اور چارے کی فصلوں کی آبیاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹیں طلب کر لی ہیں۔ عدالت نے خبردار کیا کہ یہ عمل صحت عامہ اور خوراک کی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

عدالت نے کن حکام سے رپورٹ مانگی

جسٹس اقبال احمد کاسی اور جسٹس میاں محمد رؤف عطا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بلوچستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (بیپا) کے ڈائریکٹر جنرل، واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی (واسا) کے منیجنگ ڈائریکٹر اور کوئٹہ کے ایڈمنسٹریٹر کو اگلی سماعت سے قبل تفصیلی رپورٹیں جمع کرانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو یہ ہدایت بھی دی کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی اس کیس میں فریق بنایا جائے، تاکہ معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جا سکے۔

گندا پانی صحت کے لیے کیوں خطرناک ہے

عدالت نے قرار دیا کہ بغیر صفائی کے استعمال ہونے والے گندے پانی میں سنکھیا (آرسینک)، بھاری دھاتیں اور دیگر زہریلے مادے موجود ہو سکتے ہیں، جو زرعی پیداوار میں داخل ہو کر سنگین صحت کی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

کوئٹہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اگائی جانے والی سبزیاں شہر کی منڈیوں اور گھروں تک پہنچتی ہیں، اس لیے گندے پانی سے آبیاری کا مسئلہ صرف کسانوں کا نہیں بلکہ ہر شہری کی صحت سے جڑا ہوا ہے۔

حکام کو کیا بتانا ہوگا

عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ گندے پانی کے استعمال کو روکنے کے لیے اب تک اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل بتائیں اور یہ بھی واضح کریں کہ گندے پانی کی صفائی اور محفوظ تلفی کے لیے کیا انتظامات موجود ہیں۔

بینچ نے کہا کہ معاملے کی جامع جانچ ضروری ہے، کیونکہ خوراک کی حفاظت اور شہریوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

اگے کیا ہوگا

متعلقہ اداروں کی رپورٹیں موصول ہونے کے بعد عدالت اگلی سماعت میں معاملے کا مزید جائزہ لے گی اور ضرورت پڑنے پر مزید احکامات جاری کر سکتی ہے۔ شہریوں اور صحت کے ماہرین کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ کیا حکام گندے پانی کی آبیاری روکنے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں یا نہیں۔

مزید پڑھیں: پولیو کا نواں کیس، وزیراعظم کا ہنگامی اجلاس — https://ntmnews.online/?p=3906 — اور پوپ لیو کا کینسر سرجری کے بعد لاطینی امریکہ کا دورہ — https://ntmnews.online/?p=3915

ذریعہ: ڈان — 6 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *