ٹرمپ کا دعویٰ: 250 فیصد ٹیرف کی دھمکی سے بھارت-پاک جنگ روکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی تصادم کو محض اقتصادی دھمکی کے ذریعے روک دیا — دونوں ملکوں کو 250 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی گئی، جس کے بعد فائر بندی ہوئی۔ ٹرمپ کے یہ ریمارکس فلوریڈا کے شہر فورٹ مائرز میں ایک انتخابی ریلی کے دوران سامنے آئے۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟
ٹرمپ نے ریلی میں بتایا کہ انہوں نے دونوں ملکوں کی قیادت کو براہ راست وارننگ دی: “تم بھارت اور پاکستان کو روکتے ہو، دو ایٹمی طاقتیں۔ میں نے کہا، بھائیو، اگر تم یہ کرنے جا رہے ہو تو تم امریکہ کے ساتھ تجارت نہیں کر سکو گے۔ میں تم دونوں پر 250 فیصد ٹیرف لگا دوں گا، اتنا بڑا کہ تم کوئی کاروبار ہی نہیں کر سکو گے۔”
ٹرمپ کے مطابق دونوں ممالک کی قیادت پہلے بہت ناراض ہوئی — “وہ بہت ناراض ہوئے، چیخے چلائے” — لیکن اگلے ہی دن جنگ رک گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تصادم میں 11 طیارے مار گرائے گئے تھے، اور مزید کہا کہ انہوں نے اپنی صدارت میں “آٹھ جنگیں” روکی ہیں، اس کے باوجود انہیں نوبل امن انعام نہیں ملا۔
بھارت کا جواب: ثالثی کا دعویٰ مسترد
بھارت نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسلسل مسترد کیا ہے۔ نئی دہلی کا موقف ہے کہ جنگ بندی کسی تیسرے فریق کی مداخلت سے نہیں، بلکہ دونوں ملکوں کے فوجی ذرائع کے براہ راست رابطے کے ذریعے ہوئی۔ بھارت کے مطابق پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) نے 10 مئی 2025 کو اپنے بھارتی ہم منصب سے رابطہ کر کے فوجی کارروائی روکنے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد آپریشن سندور کے دوران فائر بندی عمل میں آئی۔
بھارت نے ٹرمپ کے 11 طیارے مار گرائے جانے کے دعوے کو بھی مسترد کیا ہے، اور کہا ہے کہ تمام امور دو طرفہ نوعیت کے ہیں جن میں کسی بیرونی ثالثی کی کوئی گنجائش نہیں۔
پس منظر: آپریشن سندور
بھارت نے 7 مئی 2025 کو آپریشن سندور کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کئی روز تک سرحد پار فوجی کارروائی جاری رہی، جس سے خطے میں بڑے تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی 22 اپریل کے پہلگام حملے کے جواب میں کی گئی۔
ٹرمپ کی بار بار ثالثی کی دعوے داری
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے بھارت-پاک کشیدگی ختم کرنے کا کریڈٹ لیا ہو۔ گزشتہ ہفتے فورٹ مائرز میں ہی انہوں نے “ایک اور ایپک فیوری” کے ذریعے ایران کو دھمکی دی تھی، جس کی تفصیل یہاں پڑھیں۔ ٹرمپ نے اسی ریلی میں کیوبا کے بارے میں بھی متنازع ریمارکس دیے تھے، یہاں پڑھیں۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے یہ دعوے امریکی اندرونی سیاست اور ان کی نوبل امن انعام کی خواہش سے جڑے ہوئے ہیں۔
ذرائع: میتھربھومی انگریزی، انڈیا اکنامک آبزرور، انڈیا ٹوڈے