بجلی مہنگی: نیپرا نے فی یونٹ 2.37 روپے بڑھا دیے

0

بجلی صارفین کے لیے نومبر کے بل مزید بھاری ہوں گے — نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے فی یونٹ 2.37 روپے کا اضافی فیول چارج منظور کر لیا ہے، جو نومبر 2026 کے بجلی بلوں میں وصول کیا جائے گا۔ یہ اضافہ ستمبر 2026 کی فیول لاگت کی بنیاد پر ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت لگایا گیا ہے، اور اس سے مجموعی طور پر تقریباً 25 ارب روپے وصول کیے جائیں گے۔

فی یونٹ 2.37 روپے کا اضافہ کیوں؟

نیپرا کے فیصلے کے مطابق ستمبر میں بجلی پیدا کرنے کی اصل فیول لاگت 9.8268 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ حوالہ لاگت 7.4596 روپے فی یونٹ مقرر تھی۔ اس فرق کی بنیاد پر فی یونٹ 2.3673 روپے کی مثبت فیول ایڈجسٹمنٹ بنتی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے 2.56 روپے فی یونٹ کی ایڈجسٹمنٹ مانگی تھی، لیکن نیپرا نے اس سے تقریباً 19 پیسے کم شرح منظور کی۔ یہ اضافی رقم بل میں الگ لائن کے طور پر ظاہر ہوگی اور ستمبر میں استعمال شدہ یونٹس کی بنیاد پر لگے گی — یعنی ستمبر میں 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارف کے بل میں اس مد میں تقریباً 710 روپے کا اضافہ ہوگا۔

کن صارفین پر لاگو ہوگا، کن پر نہیں؟

یہ ایڈجسٹمنٹ سابق واپڈا تقسیم کار کمپنیوں اور کے الیکٹرک کے تمام صارفین پر لاگو ہوگی۔ تاہم لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ ٹیرف اختیار کرنے والے صارفین اس سے مستثنیٰ رہیں گے۔ اگر نومبر کے کچھ بل نوٹیفکیشن سے پہلے جاری ہو چکے ہوں تو یہ رقم اگلے مہینے کے بل میں وصول کی جائے گی۔

صنعتی پیکج کی شرح 22.98 سے بڑھ کر 25.30 روپے

اسی روز نیپرا نے صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے اضافی کھپت پیکج (انکریمنٹل کنزمپشن پیکج) کی شرح بھی 22.98 روپے سے بڑھا کر 25.30 روپے فی یونٹ کر دی، جو نومبر کے بلنگ سائیکل سے نافذ ہوگی۔ یہ فیصلہ اتھارٹی میں 2-2 سے تقسیم کے بعد چیئرمین وسیم مختار کے فیصلہ کن ووٹ سے ہوا۔ ٹیرف کی رکن آمنہ احمد اور ترقیات کے رکن مقصود انور نے مشترکہ اختلافی نوٹ میں 25.30 روپے کی شرح کو “بے بنیاد عدد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیپرا کے اپنے حساب کے مطابق اصل معمولی لاگت 31.83 روپے فی یونٹ ہے، اور انہوں نے پیکج کو عارضی طور پر معطل کرنے کی سفارش کی تھی۔

پاور ڈویژن کی وضاحت

پاور ڈویژن کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ 25.30 روپے صنعتی ٹیرف میں اضافہ نہیں بلکہ انکریمنٹل کنزمپشن پیکج کے تحت اضافی کھپت کی نظرثانی شدہ معمولی شرح ہے، اور صنعتی بجلی کا ٹیرف مارچ 2024 کے مقابلے میں ٹیکسوں سمیت تقریباً 18.94 روپے فی یونٹ کم ہوا ہے۔ یاد رہے کہ یہ پیکج گزشتہ سال دسمبر میں صنعتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، اور صنعتی حلقے مئی سے اس کی معطلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

نیپرا نے پاور ڈویژن اور متعلقہ اداروں کو درست لاگت کا ڈیٹا فراہم کرنے کی آخری تاریخیں بھی دے دی ہیں اور خبردار کیا ہے کہ ڈیڈ لائن پر عمل نہ ہوا تو پیکج معطل یا ختم کیا جا سکتا ہے اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ نومبر کا بل ملتے ہی اس میں ایف سی اے کی الگ لائن ضرور چیک کریں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا بیرونی قرض 135.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا https://ntmnews.online/?p=3812 اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی https://ntmnews.online/?p=3935

ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، دنیا نیوز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *