پاکستان سوڈان ویزا فری سفر کا معاہدہ، سرکاری پاسپورٹ پر چھوٹ
پاکستان اور سوڈان نے سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا فری سفر کا معاہدہ کر لیا ہے۔ معاہدے پر ہفتہ 7 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور سوڈان کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل بابکر سمرہ مصطفیٰ علی نے دستخط کیے۔
معاہدے میں کیا طے پایا؟
وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے کے تحت پاکستان اور سوڈان کے سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ کے حامل شہری ایک دوسرے کے ملک میں بغیر ویزا داخل ہو سکیں گے۔ اس سے سرکاری دوروں اور حکومتی سطح پر وفود کے تبادلے میں آسانی ہوگی۔
واضح رہے کہ یہ چھوٹ صرف سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں تک محدود ہے۔ عام پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے سوڈان کا ویزا اب بھی درکار ہوگا اور ان پر موجودہ ویزا قواعد ہی لاگو رہیں گے۔
سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
دونوں ممالک نے سیکیورٹی، سائبر کرائم، پولیس تربیت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ سوڈانی وزیر داخلہ کے دورے کے دوران اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے، جن میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔
یہ معاہدہ اسی ہفتے پاکستان کی جانب سے برطانیہ کے ساتھ سیکیورٹی تعاون بڑھانے کے سمجھوتے کے بعد سامنے آیا ہے۔ پاکستان اور برطانیہ نے دہشت گردی، منشیات اور سائبر کرائم کے خلاف مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا تھا — تفصیل یہاں: https://ntmnews.online/?p=4015 — جبکہ این اے بی اور روس کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے درمیان بدعنوانی کے خلاف مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے تھے۔
دورے کی اہمیت
سوڈانی وزیر داخلہ کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے سے سرکاری سطح پر رابطے آسان ہوں گے اور دونوں ممالک سیکیورٹی کے شعبے میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دی جا رہی ہے، اور سوڈان کے ساتھ یہ معاہدہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پاکستان کی خارجہ تعلقات میں حالیہ پیش رفت کے تناظر میں یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے — تفصیل یہاں: https://ntmnews.online/?p=4007
معاہدے کے نفاذ کی تاریخ اور دیگر طریقہ کار کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔
ذرائع: ڈان (7 نومبر 2026)، جیو نیوز (7 نومبر 2026) اور ایکسپریس ٹریبیون (7 نومبر 2026)