شمالی کوریا نے مشرقی سمندر کی طرف کئی میزائل داغ دیے
شمالی کوریا نے بدھ 4 نومبر کی صبح مشرقی سمندر (بحیرہ جاپان) کی طرف کئی میزائل داغ دیے ہیں۔ جنوبی کوریا کی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) کے مطابق میزائل جنوبی ہامگیونگ صوبے کے سوندک علاقے سے فائر کیے گئے۔ جنوبی کوریا اور امریکا کے حکام میزائلوں کی درست نوعیت اور خصوصیات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ یہ ایک ہفتے کے اندر شمالی کوریا کا تیسرا میزائل تجربہ بتایا جا رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
جے سی ایس نے کیا بتایا؟
جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق اس نے 4 نومبر کی صبح سوندک سے مشرقی سمندر کی طرف داغے گئے کئی میزائلوں کا سراغ لگایا۔ جے سی ایس نے کہا کہ جنوبی کوریا اور امریکا نے لانچ کو تیاری کے مرحلے سے ہی قریب سے مانیٹر کیا اور فائر کے فوراً بعد میزائلوں کا سراغ لگا لیا۔ یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق میزائلوں نے 300 کلومیٹر سے کم فاصلہ طے کیا، اور حکام اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ قریبی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تھے۔
سیول میں قائم کوریا ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورم کے سیکریٹری جنرل شن جونگ وو نے یونہاپ کو بتایا کہ بظاہر یہ ہواسونگ-11 را سطح سے سطح پر مار کرنے والا ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ شناخت ابھی غیر مصدقہ ہے — حتمی تصدیق جنوبی کوریا اور امریکا کے مشترکہ تجزیے کے بعد ہی ہوگی۔ اگر بیلسٹک میزائل ہونے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ رواں سال کا 19 واں بیلسٹک میزائل تجربہ ہوگا، اور 29 اکتوبر سے گننے پر ایک ہفتے میں چوتھا لانچ ہوگا۔
ایک ہفتے میں تجربوں کی لہر
یہ تازہ لانچ اس سے چند دن پہلے ہونے والے تجربوں کے سلسلے کی کڑی ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے گزشتہ جمعرات (29 اکتوبر) کو وونسان کے علاقے سے مشرقی سمندر کی طرف تقریباً ایک درجن قلیل فاصلاتی بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ یہ تجربہ جنوبی کوریا کی جانب سے بین الکوریائی سرحد پر فوجی مذاکرات کی تجویز کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد ہوا تھا۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ پیانگ یانگ نے ہفتے (31 اکتوبر) کو ایک کلسٹر بم کا تجربہ کیا جو ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں پر نصب کیا جا سکتا ہے — تاہم جنوبی کوریا کی فوج نے اس تجربے کا سراغ لگانے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ ان تجربوں کے پس منظر میں شمالی کوریا کا سخت موقف ہے: رہنما کم جونگ ان کی بہن کم یو جونگ نے امریکا کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے اور 6 ارب ڈالر سے زائد کی کرپٹو کرنسی چوری کے امریکی الزام کی تردید کی ہے۔
خطے پر اثرات اور ردعمل
جے سی ایس نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کی فوج شمالی کوریا کی مختلف سرگرمیوں کی مضبوط جنوبی کوریا-امریکا مشترکہ دفاعی پوزیشن کے تحت نگرانی کر رہی ہے، اور کسی بھی اشتعال انگیزی کا زبردست جواب دینے کی صلاحیت اور تیاری برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تازہ لانچ سے کسی نقصان یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے، کیونکہ میزائل سمندر کی طرف داغے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل تجربوں کا مقصد ایک طرف ہتھیاروں کی صلاحیت کا مظاہرہ ہے اور دوسری طرف واشنگٹن اور سیول پر دباؤ بڑھانا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی توجہ مشرق وسطیٰ اور یوکرین پر مرکوز ہے۔ تاہم یہ تجزیہ رائے پر مبنی ہے — سرکاری طور پر شمالی کوریا نے اس لانچ کی وجہ یا مقصد کا اعلان نہیں کیا ہے۔ خطے کے ممالک اور امریکا صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور مزید تفصیلات جنوبی کوریا-امریکا تجزیے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پہلا مقامی فضائی میزائل فائز کامیاب اور یوکرین پر روس کا بڑا رات کا حملہ۔
ماخذ: یونہاپ نیوز ایجنسی (4 نومبر 2026)، چینل نیوز ایشیا (4 نومبر 2026) اور عرب نیوز جاپان (4 نومبر 2026) کی رپورٹس۔