سعودی حملے صنعا میں — حوثی میڈیا: 3 ہلاک

0

حوثی میڈیا کے مطابق سعودی فورسز نے ہفتے 24 اکتوبر 2026 کو یمن کے حوثیوں کے زیرِ قبضہ دارالحکومت صنعا اور اس کے گرد و نواح میں مہلک فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثیوں کے ٹی وی چینل المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق صنعا کے مغربی علاقے عصر میں ایک گھر پر حملے میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ابھی ابتدائی بتائی جا رہی ہے۔

صنعا اور موخا پر حملوں کی تفصیل

المسیرہ نے “سعودی دشمن کے فضائی حملوں” کی ایک سیریز کی خبر دی ہے، جس میں صنعا شہر کے علاوہ ساحلی شہر موخا پر بھی تقریباً 20 حملے کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسی گورنریٹ میں ایک سیمنٹ فیکٹری پر حملے میں بھی “متعدد شہید اور زخمی” ہونے کی خبر دی گئی ہے، تاہم ان اعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی باقی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صنعا میں ایک گھر پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 3 بتائی گئی ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں یہ تعداد 4 بھی بتائی گئی ہے — اس فرق کی وجہ ابتدائی اور غیر حتمی اعداد ہیں۔

حملوں سے پہلے کیا ہوا؟

یہ حملے اس وقت ہوئے جب سعودی قیادت والے اتحاد نے اعلان کیا کہ اس نے حوثیوں کی طرف سے مغربی سعودی عرب کی طرف داغے گئے میزائل روک لیے ہیں۔ اتحاد کے مطابق حوثیوں نے طائف اور ینبع کی طرف میزائل داغے تھے، جبکہ بعد کی رپورٹس میں ریاض کی طرف بھی میزائل داغے جانے کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے سعودی سول ڈیفنس ایجنسی نے ملک کے چار مغربی علاقوں — طائف، ینبع، مکہ اور جدہ — میں “ممکنہ خطرے” کی وارننگ بھی جاری کی تھی، جو بعد میں واپس لے لی گئی۔

یمن جنگ کا پس منظر

سعودی عرب کی قیادت والا اتحاد 2015 میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں اس تنازع میں داخل ہوا تھا۔ اس جنگ نے یمن کو تباہ کر دیا ہے اور دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔ 2022 کی جنگ بندی کے بعد جنگ میں کچھ وقفہ آیا تھا، لیکن جولائی میں وسیع تر مشرقِ وسطیٰ جنگ کے تناظر میں لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔ اس کے بعد سے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں سعودی شہروں اور تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

خطے میں کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت کئی محاذوں پر بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف ایران کے حوالے سے امریکی حملے کی خبروں نے تیل کی قیمتوں کو 117 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچا دیا ہے، تو دوسری طرف آبنائے ہرمز کے قریب ٹینکروں پر حملوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اسی تناظر میں سعودی عرب میں حوثی حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک نیا خطرہ بن گیا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ خطے میں کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات تیل کی قیمتوں، تجارت اور لاکھوں تارکینِ وطن مزدوروں پر پڑ سکتے ہیں۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان اس تازہ کشیدگی سے قبل دمام ایئرپورٹ پر حملے کی خبر بھی سامنے آئی تھی، جس کی تفصیل https://ntmnews.online/?p=1301 میں دی گئی تھی، جبکہ ایران پر ممکنہ حملے کے حوالے سے تازہ انتباہ https://ntmnews.online/?p=1726 میں شائع ہوا تھا۔ ان خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت کا امکان ہے۔

یہ خبر حوثی میڈیا اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹس پر مبنی ہے۔ سعودی اتحاد کی طرف سے صنعا حملوں پر باضابطہ بیان ابھی سامنے نہیں آیا ہے، اور ہلاکتوں کے اعداد کی آزاد تصدیق ہونا باقی ہے۔

ماخذ: اے ایف پی، دی ہندو، ڈان اور گلف نیوز کی 24 اکتوبر 2026 کی رپورٹس — تمام ہلاکتوں کے اعداد حوثی میڈیا المسیرہ کے حوالے سے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *