حوثی حملوں کے باعث سعودی عرب کی “ڈیوس ان دی ڈیزرٹ” کانفرنس 2027 تک ملتوی — وال اسٹریٹ کے بڑے سربراہان شرکت سے محروم

0

سعودی عرب نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے بڑھتے حملوں کے باعث اپنی مشہور سالانہ سرمایہ کاری کانفرنس “ڈیوس ان دی ڈیزرٹ” کو اگلے سال 2027 تک ملتوی کر دیا ہے۔ یہ کانفرنس 26 سے 29 اکتوبر کو ریاض میں شیڈول تھی اور اسے سعودی ویژن 2030 کے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کی نمائش کا سب سے بڑا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔

ملتوی کیوں ہوئی؟

فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (ایف آئی آئی) انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ شراکت داروں، مقررین اور مندوبین کے “مکمل پیمانے، معیار اور اثر” کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔ انسٹی ٹیوٹ کی سی ای او ڈاکٹر ماہا بنت مشاری آل سعود نے کہا کہ چونکہ یہ دسواں سنگ میل ایڈیشن تھا، اس لیے اسے شایان شان انداز میں منعقد کرنا ضروری تھا۔ نئی تاریخیں “بہت جلد” اعلان کی جائیں گی اور تمام رجسٹریشنز و شراکتیں برقرار رہیں گی۔

ملتوی ہونے والی کانفرنس میں وال اسٹریٹ کے بڑے نام شریک ہونے والے تھے — جن میں جے پی مورگن کے سی ای او جیمی ڈائمن، سٹی گروپ کی سی ای او جین فریزر، گولڈمین سیکس کے ڈیوڈ سولومن، بلیک راک کے لیری فنک اور گوگل کی روتھ پورٹ شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق مالی اداروں کے ایگزیکٹوز نے حوثی حملوں کے باعث اپنے سربراہان کو ریاض بھیجنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

حوثی حملوں کی شدت میں اضافہ

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حالیہ ہفتوں میں میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کا تبادلہ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔ حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، آرامکو کی تنصیبات، شیبہ آئل فیلڈ اور دیگر اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں ریاض ایئرپورٹ پر مہلک میزائل حملے کے بعد متعدد ممالک نے سفری انتباہ جاری کیے۔

ریاض میں سرکاری دفاتر کے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ کنگڈم سینٹر ٹاور — جس میں آئی ایم ایف کا علاقائی دفتر بھی ہے — نے عملے کو دور رہنے کو کہا ہے۔ یمن میں بھی لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے؛ پیر کو صوبہ شبوہ میں حوثی بیلسٹک میزائلوں سے فوجی تربیتی مرکز پر حملے میں مقامی حکومت کے مطابق کم از کم 53 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

معاشی اثرات

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملتوی سعودی عرب کے معاشی عزائم کے لیے بڑا دھچکا ہے، کیونکہ یہ کانفرنس ہائیڈروکاربن سے ہٹ کر سیاحت، کھیل اور ٹیکنالوجی کی جانب معیشت کو متنوع بنانے کے لیے درکار اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا اہم ذریعہ تھی۔ تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے اور خام تیل 110 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔

ماخذ: سی این این (19 اکتوبر 2026)، الجزیرہ (20 اکتوبر 2026)، اے ایف پی (20 اکتوبر 2026)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *