اسٹاک مارکیٹ: کے ایس ای 100 انڈیکس 784 پوائنٹس گر گیا

0

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ 30 اکتوبر کو چار روزہ تیزی کا سلسلہ ٹوٹ گیا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 784.19 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 166,409.25 پوائنٹس پر بند ہوا۔ گزشتہ روز انڈیکس 167,193.44 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ اس گراوٹ سے سرمایہ کاروں کی دولت میں 103 ارب روپے سے زائد کی کمی ہوئی، جبکہ مارکیٹ میں حصہ لینے والی تقریباً 60 فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی آئی۔

دن بھر اتار چڑھاؤ کیسا رہا

کاروباری دن کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور انڈیکس 145 پوائنٹس کے اضافے سے 167,338 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا۔ تاہم دن کے دوسرے حصے میں فروخت کا دباؤ بڑھتا گیا اور آخری گھنٹوں میں گراوٹ تیز ہو گئی۔ انڈیکس دن کے دوران 166,326.70 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک بھی گیا۔ مجموعی طور پر انڈیکس 1,012 پوائنٹس کے دائرے میں گھومتا رہا۔
ریڈی مارکیٹ میں 825.467 ملین حصص کا کاروبار ہوا، جو گزشتہ روز کے 816.834 ملین حصص سے زیادہ ہے۔ تاہم کاروبار کی مجموعی مالیت کم ہو کر 23.12 ارب روپے رہ گئی، جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 18.493 ٹریلین روپے سے گھٹ کر 18.389 ٹریلین روپے ہو گئی۔ 501 کمپنیوں میں سے 173 کے حصص میں اضافہ ہوا، 300 میں کمی آئی اور 28 کی قیمتیں برقرار رہیں۔

گراوٹ کی وجوہات کیا بتائی گئیں

مارکیٹ ماہرین کے مطابق گراوٹ کی بڑی وجہ منافع کی وصولی (پرافٹ ٹیکنگ) تھی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے چار مسلسل تیزی کے سیشنوں کے بعد اپنے حصص بیچ کر منافع محفوظ کیا۔ اس کے ساتھ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے، اور وزارت خزانہ نے اکتوبر کے لیے مہنگائی 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
بڑے بینکوں کے حصص نے انڈیکس کو سب سے زیادہ نیچے کھینچا۔ میٹس گلوبل کے مطابق یونائیٹڈ بینک نے 102.66 پوائنٹس، لکی سیمنٹ نے 88.36 پوائنٹس اور حبیب بینک نے 70.19 پوائنٹس کی کمی میں حصہ ڈالا۔ حجم کے لحاظ سے پرویز احمد کمپنی 165.865 ملین حصص کے ساتھ سرفہرست رہی، جبکہ سینرجیکو پاکستان 111.992 ملین حصص کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھی۔

کے ایس ای 30 اور آل شیئر انڈیکس کی صورتحال

کے ایس ای 30 انڈیکس 294.03 پوائنٹس گر کر 49,026.65 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ آل شیئر انڈیکس 457.17 پوائنٹس کی کمی سے 100,685.85 پوائنٹس پر آ گیا۔ یہ گراوٹ اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ روز انڈیکس 1,456.68 پوائنٹس کے اضافے سے 167,000 کی سطح عبور کر گیا تھا، جسے مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کی امیدوں سے جوڑا گیا تھا۔

عام سرمایہ کار کے لیے اس کا کیا مطلب ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک دن کی گراوٹ سے طویل مدتی رجحان کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، تاہم قلیل مدت میں تیل کی قیمتوں، مہنگائی کے اعداد اور خطے کی صورتحال پر مارکیٹ کی نظر رہے گی۔ سیشن کے آخری لمحات میں کم قیمتوں پر خریداری نے نقصان کو کچھ کم کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض سرمایہ کار گراوٹ کو خریداری کا موقع بھی سمجھ رہے ہیں۔ آئندہ ہفتے کی سمت کا انحصار انہی عوامل پر ہوگا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ: کے ایس ای 100 انڈیکس 167,000 سے اوپر (https://ntmnews.online/?p=2740) اور گوگل کی مالک الفابیٹ کے حصص 12 فیصد گر گئے (https://ntmnews.online/?p=2814)۔
ماخذ: بزنس ریکارڈر، اے آر وائی نیوز، اردو پوائنٹ (اے پی پی)، 24 نیوز اور میٹس گلوبل کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *