چین اسٹاک مارکیٹ بیئر مارکیٹ میں، 20 فیصد گراوٹ
چین کی اہم اسٹاک انڈیکس سی ایس آئی 300 جون 2026 کی بلند ترین سطح سے 20 فیصد گر کر باضابطہ طور پر بیئر مارکیٹ میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعرات 22 اکتوبر کو انڈیکس میں مزید کمی کے بعد یہ حد عبور ہوئی، اور جمعہ کو بھی انڈیکس 1.6 فیصد تک گری جس سے ہفتہ وار نقصان تقریباً 5 فیصد تک پہنچ گیا۔ یہ مسلسل دسویں ہفتے کی مندی ہے — چین کی اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں اتنی طویل مسلسل ہفتہ وار گراوٹ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
بیئر مارکیٹ کیا ہوتی ہے؟
جب کوئی انڈیکس اپنی حالیہ بلند ترین سطح سے 20 فیصد یا اس سے زیادہ گر جائے تو اسے تکنیکی طور پر بیئر مارکیٹ کہا جاتا ہے۔ سی ایس آئی 300 شنگھائی اور شینزن اسٹاک ایکسچینجز میں درج 300 بڑی کمپنیوں کے حصص پر مشتمل ہے، اس لیے اس کی گراوٹ چین کی مجموعی کاروباری صورتحال کا اہم اشارہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ 2020 میں کورونا وبا کے دوران آنے والی مندی کے بعد انڈیکس کی پہلی بیئر مارکیٹ ہے۔
گراوٹ کی وجوہات — کمزور منافع اور محرک کی امیدیں ماند
گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ کمپنیوں کے کمزور منافع اور حکومت کی جانب سے بڑے معاشی محرک کی امیدوں کا ماند پڑنا ہے۔ بیٹری بنانے والی بڑی کمپنی سی اے ٹی ایل کی مثال سامنے ہے — اس کی آمدنی میں 58.6 فیصد اضافے کے باوجود سہ ماہی منافع صرف 14.5 فیصد بڑھا، جس پر اس کے حصص بدھ کو تقریباً 12 فیصد گر گئے۔ سخت مسابقت اور بڑھتی لاگت کے باعث کمپنیوں کے لیے فروخت میں اضافے کو منافع میں بدلنا مشکل ہو رہا ہے۔
دوسری بڑی وجہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے منسلک حصص میں فروخت ہے۔ امریکا میں ٹیسلا اور میٹا جیسی کمپنیوں کے ملے جلے نتائج کے بعد اے آئی سرمایہ کاری کے بارے میں سوالات اٹھے، جس کا اثر ایشیا بھر میں پڑا۔ ہانگ کانگ میں درج چینی ٹیکنالوجی حصص نے اپریل 2025 کے ٹیرف جھٹکے کے بعد اپنا بدترین سیشن دیکھا اور اب اپنی بلند ترین سطح سے 40 فیصد سے زیادہ نیچے ہیں۔
ہانگ کانگ اور خطے کی منڈیوں پر اثر
جمعرات کو ہانگ کانگ کی ہینگ سینگ انڈیکس 2.9 فیصد گری جبکہ اس کی ٹیکنالوجی انڈیکس میں 4.6 فیصد کی کمی ہوئی۔ علی بابا کے حصص تقریباً 6 فیصد اور ٹینسنٹ کے 3.4 فیصد گرے۔ خطے کی دیگر منڈیاں بھی متاثر ہوئیں — جنوبی کوریا کا کوسپی 3.5 فیصد اور جاپان کا نکی 3 فیصد گرا۔ شنگھائی اسٹار 50 انڈیکس موجودہ نصف سال میں تقریباً 40 فیصد اور چائی نیکسٹ انڈیکس 36 فیصد گر چکا ہے، جبکہ بڑے چپ سازوں کی قدر تقریباً آدھی رہ گئی ہے۔
حکومت کی کوششیں اور ماہرین کی رائے
چینی حکومت کی حمایت یافتہ فنڈز، جنہیں “نیشنل ٹیم” کہا جاتا ہے، نے جمعرات کو 46 ارب یوآن (تقریباً 6.89 ارب ڈالر) کے حصص خریدے — جو اپریل 2025 کے بعد ایک دن میں سب سے بڑی خریداری ہے — لیکن اس سے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکا۔ یو بی ایس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف سستے حصص ہونا بحالی کی وجہ نہیں بنتا؛ سرمایہ کاروں کو نمو، رویے اور رفتار میں بہتری بھی چاہیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مندی اس وقت آئی ہے جب چین کی معیشت نے تیسری سہ ماہی میں توقع سے بہتر 4.5 فیصد نمو دکھائی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مضبوط برآمدات اور پیداوار کے باوجود حصص کی قیمتیں منافع کے معیار، گھریلو طلب کی کمزوری اور پراپرٹی سیکٹر کے دباؤ سے متاثر ہو رہی ہیں۔ برسوں کی زیادہ سرمایہ کاری اور اضافی پیداواری صلاحیت نے کمپنیوں کے منافع کو دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔
متعلقہ خبریں: عالمی بینک کی پاکستان معیشت سے متعلق پیش گوئی کے لیے یہ رپورٹ https://ntmnews.online/?p=1348 اور مہنگائی کے دباؤ پر وزیر خزانہ اورنگزیب کے انتباہ کے لیے یہ خبر https://ntmnews.online/?p=1709 بھی دیکھیں۔
ذرائع: سی این بی سی ٹی وی 18، انویز، نیوز بائٹس۔