پی ٹی آئی کی 28ویں ترمیم کی مشروط حمایت
پی ٹی آئی کی 28ویں ترمیم کی مشروط حمایت کا فیصلہ سامنے آ گیا ہے — پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے منگل 27 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے طویل اجلاس میں فیصلہ کیا کہ 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت اس صورت میں کی جائے گی جب پارٹی کے بانی عمران خان کو رہا کر دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اکثریت نے اس مشروط حمایت کی تائید کی۔
8 گھنٹے طویل اجلاس میں کیا فیصلے ہوئے؟
پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں تقریباً 8 گھنٹے جاری رہا۔ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تفصیلی بحث ہوئی۔ پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کی اور کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور دہشت گردوں کی مخالف رہی ہے۔
بیرسٹر گوہر خان کے مطابق پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف ہر جنگ میں حصہ لیا ہے، لیکن انسداد دہشت گردی کے نام پر خیبر پختونخوا میں کسی سیاسی جماعت کے خاتمے کے اقدامات کی مذمت کی جاتی ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہنی چاہیے اور ہر صوبے کو اس میں تعاون کرنا چاہیے، جبکہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج ختم کر کے وزیراعلیٰ اور ارکان اسمبلی کو عوام کے سامنے لایا جائے۔
عمران خان تک رسائی اور قید کے بارے میں کیا کہا گیا؟
بریفنگ میں بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے پارٹی کو اپنے وزیراعلیٰ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں، اور اسی طرح جنید اکبر، شاہد خٹک، اسپیکر سواتی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کے بارے میں بھی معلومات دستیاب نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی تین بہنوں کو ایک ماہ تک جیل میں رکھا گیا اور بعد میں ان کی قید کی مدت میں توسیع کر دی گئی، جبکہ وہ تاحال قید میں ہیں۔
گوہر خان کے مطابق عمران خان تک رسائی یا ان سے ملاقات کے بغیر 375 سے زیادہ دن گزر چکے ہیں۔ اجلاس میں یہ موقف بھی سامنے آیا کہ عمران خان کی رہائی اور ان تک رسائی کے معاملات کو حل کرنا کسی بھی آئینی تعاون کی بنیاد ہوگا۔ یہ تمام نکات پارٹی قیادت کے بیانات اور اجلاس کے بعد کی بریفنگ پر مبنی ہیں، اور حتمی حکومتی موقف اس بارے میں سامنے آنا باقی ہے۔
6 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی کس کام کے لیے بنائی گئی؟
ذرائع کے مطابق اسی اجلاس میں عمران خان تک رسائی اور ان کے طبی علاج سے متعلق معاملات کے لیے 6 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے، اور کمیٹی حکومت اور متعلقہ افراد سے ان معاملات پر مذاکرات کرے گی۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی میں قومی اسمبلی کے دو ارکان اور سینیٹ کے دو ارکان شامل ہوں گے، جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ایک ایک نمائندہ بھی کمیٹی کا حصہ ہوگا۔ اس فیصلے کو پارٹی کے اندر عمران خان کی رہائی کے معاملے پر منظم مذاکرات کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اجلاس میں تلخی اور ارکان کا واک آؤٹ
اجلاس کے دوران بعض لمحات میں تلخی بھی سامنے آئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران کئی ارکان کمرے سے باہر چلے گئے، جن میں علی امین گنڈاپور کے بھائی فیصل امین خان بھی شامل تھے، جنہوں نے غصے میں کمرے کا دروازہ زور سے بند کیا۔ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی خواجہ شیراز بھی کمرے سے باہر گئے اور کہا کہ وہ فون کال کا جواب دے کر واپس آئیں گے۔
اسی طرح علی محمد خان اور شہریار آفریدی بھی اجلاس کے دوران باہر گئے، جن میں سے ایک نے فون کال اور دوسرے نے نماز کا حوالہ دیا۔ ان واقعات کو پارٹی کے اندرونی اختلافات، حکومت سے مذاکرات اور لانگ مارچ کی تیاریوں پر بحث کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم پارٹی قیادت کی جانب سے اجلاس کے مجموعی فیصلوں کو متفقہ اور مشروط حمایت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
28ویں ترمیم کی بحث میں آگے کیا ہوگا؟
28ویں ترمیم کے حوالے سے سیاسی بحث پہلے سے جاری ہے۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے 26 اکتوبر کو کہا تھا کہ ان کے ذاتی اندازے کے مطابق 28ویں آئینی ترمیم 15 دسمبر سے پہلے پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی اور اس کے نتیجے میں 15 سے 17 نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان نئے صوبوں کی حمایت کرتے رہے ہیں، اور اگر پارٹی اس معاملے پر مؤثر سیاسی حکمت عملی اپنائے تو عمران خان کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔
یہ بیان فواد چوہدری کا ذاتی اندازہ ہے، نہ کہ کسی سرکاری اعلان کا حصہ، اور اس کی تصدیق حکومت یا پارلیمنٹ کی جانب سے نہیں ہوئی ہے۔ اب پی ٹی آئی کی مشروط حمایت کے فیصلے کے بعد دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت اس شرط پر کیا ردعمل دیتی ہے اور آیا ترمیم کے معاملے پر مذاکرات کا کوئی باضابطہ راستہ کھلتا ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی اسلام آباد ماڈل جیل منتقلی کے اشارے پر ہماری خبر https://ntmnews.online/?p=2292 اور پی ٹی آئی کی اندرونی صورتحال پر ہماری خبر https://ntmnews.online/?p=2220
ذرائع: اے آر وائی نیوز، اردو پوائنٹ، ڈی این اے نیوز ایجنسی — 27 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔