پنجاب میں سموگ: لاہور اے کیو آئی 530، ملتان 719

0

پنجاب میں سموگ خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے۔ صوبے کے پانچ بڑے شہروں میں فضائی آلودگی نے صحت کا بحران پیدا کر دیا ہے — لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 530 اور ملتان کا 719 ریکارڈ ہوا، جبکہ راولپنڈی کے تین اتحادی اسپتالوں میں صرف 48 گھنٹوں کے دوران سموگ سے متعلقہ بیماریوں کے 2,961 مریض علاج کے لیے پہنچے۔

لاہور اور ملتان سب سے زیادہ متاثر

ایکسپریس ٹریبیون کی 7 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے پانچ بڑے شہر — لاہور، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور جھنگ — سمیت جڑواں شہر راولپنڈی اور اسلام آباد بھی شدید سموگ کی لپیٹ میں ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ و موسمیاتی تبدیلی کے محکمے اور اے کیو آئی ایپلی کیشنز کے اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد کا اے کیو آئی 187 اور راولپنڈی کا 179 رہا، جبکہ لاہور میں یہ 530 تک جا پہنچا اور ملتان میں 719 کی انتہائی خطرناک سطح ریکارڈ ہوئی۔

فیصل آباد کا اے کیو آئی 371، گوجرانوالہ کا 600 سے 660 کے درمیان اور جھنگ کا 678 ریکارڈ ہوا۔ مری میں بھی اے کیو آئی 123 سے تجاوز کر گیا۔ گوجرانوالہ، فیصل آباد اور جھنگ جیسے صنعتی مراکز سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔

اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ

راولپنڈی کے تین اتحادی اسپتالوں کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹس اور ایمرجنسی وارڈز میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سموگ اور فضائی آلودگی سے جڑی بیماریوں کے 2,961 مریض آئے۔ ان میں زیادہ تر بزرگ مرد و خواتین شامل تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بوڑھے افراد خطرناک فضائی حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

سموگ کے باعث سانس کی بیماریوں، دمہ، گلے کی خرابی، آنکھوں میں جلن، نزلہ زکام اور مسلسل کھانسی کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ طبی ماہرین اور صحت حکام نے شہریوں کو خاص طور پر باہر نکلتے وقت حفاظتی ماسک پہننے کی ہدایت کی ہے، جبکہ بچوں اور سانس کی بیماری میں مبتلا افراد کو غیر ضروری طور پر باہر جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

سموگ کی وجوہات کیا ہیں؟

ماحولیاتی تحفظ کے محکمے نے اینٹوں کے بھٹوں، پتھر توڑنے والے کرشروں، صنعتی اخراج، گاڑیوں کے دھوئیں، فصلوں کی باقیات جلانے اور پرانے ٹائروں کو جلا کر کالا تیل نکالنے کو آلودگی کے بڑے اسباب قرار دیا ہے۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو آلودگی کا خاص طور پر سنگین ذریعہ بتایا گیا ہے۔

حکام کو خدشہ ہے کہ اگر اگلے تین دنوں میں بارش نہ ہوئی تو آلودگی کی سطح مزید بڑھ سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 9 نومبر سے بارشوں کا نیا سلسلہ متوقع ہے — اس بارے میں تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4039 — جس سے سموگ میں کچھ کمی آسکتی ہے۔

شہری کیا احتیاط کریں؟

صحت حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ صبح اور شام کے اوقات میں دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں، باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال کریں اور آنکھوں کے قطرے استعمال کرنے سے قبل طبی مشورہ لیں۔ دہلی میں بھی فضائی آلودگی کی صورتحال سنگین ہے — دہلی دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار پایا ہے، تفصیل یہاں: https://ntmnews.online/?p=4035 — جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے بھر میں فضائی معیار کا بحران گہرا ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ کا مسئلہ صرف موسم سرما تک محدود نہیں، بلکہ سال بھر کی آلودگی اور موسمی عوامل کا نتیجہ ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ صحت حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون (7 نومبر 2026) اور اے این آئی / دی ٹریبیون انڈیا (7 نومبر 2026)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *