پاکستان جی 24 کا چیئرمین بن گیا، اورنگزیب کا ایجنڈا
پاکستان نے یکم نومبر 2026 کو ترقی پذیر ممالک کے بااثر گروپ انٹرگورنمنٹل گروپ آف ٹوئنٹی فور، یعنی جی 24، کی چیئرمین شپ باضابطہ طور پر سنبھال لی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اس گروپ کے نئے چیئرمین ہوں گے اور پاکستان کی صدارت کے دوران ترقی پذیر معیشتوں کی اجتماعی آواز کو مضبوط بنانے پر کام کرے گا۔ نائیجیریا سے صدارت پاکستان کو منتقل ہوئی ہے، جہاں نائیجیریا گزشتہ مدت میں اس گروپ کا چیئرمین تھا۔
چیئرمین شپ کا اعلان کیسے ہوا
وزارت خزانہ کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے آج جی 24 کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے اور وہ ترقی پذیر معیشتوں کی اجتماعی آواز کو مضبوط کرنے اور زیادہ جوابدہ، منصفانہ اور ترقی پر مبنی عالمی مالیاتی نظام کے لیے کام کرنے کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔ وزیر خزانہ نے اس ذمہ داری کو ایک بڑی ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ اس کے لیے بین الاقوامی تعاون کی تجدید، کثیرالجہتی اداروں کی مضبوطی اور موسمیاتی جھٹکوں، ترقیاتی مالیاتی خلا اور عالمی معاشی تقسیم جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی وعدوں کو تقویت دینا ہوگی۔
یہ منتقلی اکتوبر میں بینکاک میں ہونے والے اجلاس کے بعد مکمل ہوئی، جہاں پاکستان پہلے ہی فرسٹ وائس چیئر کی حیثیت سے اگلی صدارت کے لیے تیار تھا۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کی صدارت جی 24 کے دیرینہ اصولوں، مشاورت، اتفاق رائے اور اجتماعی حمایت پر مبنی ہوگی اور افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور کیریبین کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔
اورنگزیب کی تین ترجیحات کیا ہیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی صدارت کے لیے تین اسٹریٹجک ترجیحات بیان کی ہیں۔ پہلی ترجیح ترقی کو عالمی معاشی پالیسی سازی کے مرکز میں رکھنا ہے، تاکہ معاشی استحکام سرمایہ کاری، پیداواریت، روزگار اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد بنے اور ترقی پذیر و کم آمدنی والی معیشتیں صرف بحرانوں کے انتظام سے آگے بڑھ کر پائیدار ترقی کی طرف جا سکیں۔
دوسری ترجیح رکن ممالک کے اجتماعی فائدے کے لیے کثیرالجہتی ڈھانچوں کو مضبوط بنانا ہے، جس میں زیادہ جامع اور نمائندہ ادارے، فیصلہ سازی میں بامعنی شرکت اور بریٹن ووڈز اداروں، یعنی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، کی اپنے ارکان کی بدلتی ہوئی ضروریات کے لیے زیادہ جوابدہی شامل ہے۔ تیسری ترجیح ترقی پر مبنی عالمی مالیاتی ڈھانچہ آگے بڑھانا ہے، جس میں سستی اور بروقت ترقیاتی مالی معاونت، پائیدار قرضوں کے حل، مضبوط عالمی مالیاتی حفاظتی نیٹ، موسمیاتی لچک اور سرکاری و نجی سرمائے کی زیادہ متحرک کاری شامل ہوگی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ترقی پذیر معیشتوں کا مستقبل عالمی معیشت کے مستقبل سے الگ نہیں بلکہ اس کا مرکز ہے، کیونکہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر اقوام سرمایہ کاری، جدت، کاروبار اور عالمی ترقی کی محرک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی قیادت کا اصل پیمانہ صرف آواز کی مضبوطی نہیں بلکہ وہ فرق ہے جو یہ آواز پیدا کرے، اور پاکستان کا مقصد اجتماعی آواز سے اجتماعی اثر اور پھر بامعنی پیش رفت تک پہنچنا ہے۔
شہباز شریف کا ردعمل
وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی جی 24 کی چیئرمین شپ کو ایک اہم سفارتی سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ عالمی معاشی میدان میں پاکستان کے موثر کردار کا اعتراف ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اس منصب سے پاکستان کو عالمی مالیاتی ڈھانچے کی اصلاح کے لیے دباؤ ڈالنے کا ایک پلیٹ فارم ملے گا۔ وزیر اعظم نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزارت خزانہ کی سفارت کاری اور پیشہ ورانہ مہارت کو بھی سراہا۔
جی 24 کیا ہے اور پاکستان کو کیا ملے گا
جی 24 سن 1971 میں قائم ہوا تھا اور اس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے موقف کو عالمی مالیاتی و ترقیاتی فورمز، خاص طور پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں، مربوط کرنا ہے۔ یہ گروپ ترقی پذیر ممالک کو عالمی معاشی فیصلوں میں زیادہ آواز دینے کے لیے کام کرتا ہے، جہاں ترقی یافتہ معیشتوں کا اثر و رسوخ روایتی طور پر زیادہ رہا ہے۔
پاکستان کے لیے اس صدارت کی عملی اہمیت یہ ہے کہ وہ اگلے ایک سال تک ترقی پذیر ممالک کے ایجنڈے کی قیادت کرے گا، ان کی ترجیحات کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اجلاسوں میں آگے رکھے گا اور قرض، ترقیاتی مالی معاونت اور موسمیاتی لچک جیسے موضوعات پر مشترکہ موقف تشکیل دینے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ وزیر خزانہ نے پاکستان کے اپنے معاشی استحکام، اصلاحات اور لچک کے تجربے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ مالیاتی استحکام کو طویل مدتی ترقیاتی مقاصد سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔
اس سے پہلے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جی سی سی تجارتی معاہدے پر پیش رفت کی خبر بھی سامنے آئی تھی، جس کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3111 ۔ اسی طرح سندھ کے لیے ورلڈ بینک کی 150 ملین ڈالر کی معاونت کی خبر یہاں موجود ہے: https://ntmnews.online/?p=3023 ۔
آگے کیا ہوگا
پاکستان کی صدارت کے دوران جی 24 کے وزرا کا اگلا بڑا اجلاس آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے موسم بہار کے اجلاسوں کے موقع پر متوقع ہے، جہاں پاکستان اپنے اعلان کردہ ایجنڈے کو عملی تجاویز کی شکل دینے کی کوشش کرے گا۔ تاہم وزارت خزانہ کے بیان میں کسی مخصوص ہدف، رقم یا تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے صدارت کی کامیابی کا اصل امتحان آنے والے مہینوں میں مشترکہ موقف اور عملی نتائج سے ہوگا۔
ذرائع: اے پی پی بذریعہ اردو پوائنٹ، عرب نیوز، دنیا نیوز، دی تھرسڈے ٹائمز، یکم نومبر 2026۔