ورلڈ بینک سندھ کو 150 ملین ڈالر دے گا

0

عالمی بینک نے سندھ میں شہری پراپرٹی ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور بلدیاتی خدمات مضبوط کرنے کے لیے 150 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی ہے۔ سندھ پراپرٹی ریونیوز انہانسمنٹ پروگرام کے نام سے یہ منصوبہ خاص طور پر کراچی پر مرکوز ہوگا، جہاں بلدیاتی کونسلوں کی آمدن کا 95 فیصد سے زیادہ حصہ اس وقت صوبائی منتقلیوں پر منحصر ہے۔

ورلڈ بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے یہ منظوری 30 اکتوبر کو دی اور اس کا اعلان 31 اکتوبر کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کیا گیا۔ پروگرام کا مقصد سندھ حکومت کو شہری غیر منقولہ پراپرٹی ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب بلدیاتی کونسلوں کی خدمات کی فراہمی کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دینا ہے۔

کراچی کی وصولی 10 گنا بڑھانے کا ہدف

کراچی اس وقت سالانہ صرف تقریباً 85 لاکھ ڈالر پراپرٹی ٹیکس وصول کرتا ہے، حالانکہ یہ دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ نئے پروگرام کے تحت ٹیکس کی تعمیل 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کی جائے گی جس سے سالانہ وصولی 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے، یعنی موجودہ وصولی سے 10 گنا زیادہ۔

پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وصول شدہ پراپرٹی ٹیکس کا تقریباً 70 فیصد حصہ براہ راست بلدیاتی انفرااسٹرکچر اور خدمات میں دوبارہ لگایا جائے گا۔ کراچی کی 25 بلدیاتی کونسلوں میں یہ سرمایہ کاری تقریباً 35 لاکھ 80 ہزار افراد کو براہ راست فائدہ پہنچائے گی۔

سندھ کے دیگر شہروں تک توسیع

پروگرام میں 40 ملین ڈالر کا ایک الگ انویسٹمنٹ پروجیکٹ فنانسنگ جزو بھی شامل ہے جس کے ذریعے سندھ کے دیگر شہری مراکز کی 20 بلدیاتی کونسلوں میں پراپرٹی سروے اور ٹیکس انتظامیہ کو وسعت دی جائے گی۔ اس سے تقریباً 45 لاکھ افراد کو بالواسطہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

ورلڈ بینک کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے کہا کہ سندھ کی بلدیاتی کونسلیں اس وقت صوبائی منتقلیوں پر 95 فیصد سے زیادہ انحصار کرتی ہیں جس سے ان کی طویل مدتی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق مقامی آمدن مضبوط ہونے سے شہروں کو وہ انفرااسٹرکچر بنانے کی گنجائش ملے گی جس کی رہائشیوں اور کاروبار کو ضرورت ہے۔

یہ پروگرام کیوں اہم ہے

ماہرین کے مطابق پاکستان کے شہروں میں بلدیاتی خدمات کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ مقامی آمدن کی کمی ہے۔ جب کونسلیں اپنی آمدن خود پیدا نہیں کرتیں تو وہ سڑکوں، نکاسی آب، پانی اور صفائی جیسی بنیادی خدمات کے لیے صوبائی حکومت کی منتقلیوں کی محتاج رہتی ہیں۔ سندھ پریپ کا ماڈل یہ ہے کہ بہتر سروے، جدید ٹیکس نظام اور تعمیل میں اضافے سے آمدن بڑھے اور اس کا بڑا حصہ واپس اسی علاقے کی خدمات پر خرچ ہو۔

یہ پروگرام اکتوبر کے اوائل میں مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کی منظور کردہ سندھ کی 895 ملین ڈالر کی غیر ملکی امداد سے چلنے والی سماجی اسکیموں کے سلسلے کی ایک کڑی بھی ہے، جن میں پانی، تعلیم، آبپاشی اور شہری انفرااسٹرکچر کے منصوبے شامل ہیں۔

کراچی کے شہریوں کے لیے اس پروگرام کی کامیابی کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ ٹیکس وصولی میں اضافہ واقعی سڑکوں، نکاسی آب اور بلدیاتی خدمات میں نظر آئے یا نہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق نتائج پر مبنی انعامات کا نظام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے رکھا گیا ہے کہ رقم خدمات کی بہتری سے جڑی رہے۔

مزید تفصیل کے لیے ہماری گزشتہ رپورٹ کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور شہری مسائل اور ایس ایم ای قرضوں کا نیا نظام بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

ذرائع: ورلڈ بینک کی پریس ریلیز، دی نیشن، آج انگلش، ڈیلی پاکستان اور ڈیو ڈسکورس کی 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *