کٹھوعہ انکاؤنٹر: 4 پولیس اہلکار شہید، 3 دہشت گرد ہلاک

0

جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں جمعرات کو دن بھر جاری رہنے والے ایک انکاؤنٹر میں جموں و کشمیر پولیس کے 4 اہلکار شہید اور 3 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جبکہ 7 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بھارتی فوج نے جمعے کی صبح سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کی۔ رات پڑنے پر روکا گیا سرچ آپریشن جمعے کی صبح اضافی نفری کے ساتھ دوبارہ شروع کر دیا گیا، کیونکہ حکام کے مطابق علاقے میں مزید 2 دہشت گردوں کے چھپے ہونے کا شبہ ہے۔

واقعہ کیسے پیش آیا

خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق انکاؤنٹر جمعرات کی صبح تقریباً 8 بجے صفیان گاؤں کے قریب جنگلاتی علاقے میں شروع ہوا۔ ایک گاؤں والے نے ہیرانگر کے علاقے جٹھانہ میں امبانال کے قریب 5 مسلح افراد کو بلاور کی طرف جاتے دیکھا اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) کی قیادت میں سرچ پارٹی علاقے میں پہنچی، جس پر دہشت گردوں نے بھاری فائرنگ کر دی۔

فائرنگ کے تبادلے میں سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس ڈی پی او) کی قیادت والی ٹیم گھنے جنگل اور نالے کے قریب پھنس گئی۔ حکام کے مطابق ایس ڈی پی او کو شام گئے علاقے سے نکال لیا گیا، جبکہ ان کے 3 ذاتی حفاظتی اہلکار موقع پر ہی شہید پائے گئے۔ چوتھے لاپتہ پولیس اہلکار کی لاش جمعے کو ڈرون کی مدد سے تلاش کے دوران ملی۔ شہید ہونے والوں میں صفیان پولیس پوسٹ کے انچارج بھی شامل ہیں۔

آپریشن صفیان اور زخمی اہلکار

اس آپریشن کو “آپریشن صفیان” کا نام دیا گیا ہے، جس میں فوج اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے پولیس کی مدد کی۔ زخمی ہونے والے 7 پولیس اہلکاروں میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) بارڈر دھیرج کٹوج بھی شامل ہیں۔ دو زخمی اہلکاروں کو کٹھوعہ اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے، جبکہ فوج کے 2 اہلکار بھی زخمی ہو کر فوجی اسپتال منتقل کیے گئے۔

حکام کے مطابق شام کو فوج کے خصوصی دستے ہیلی کاپٹر سے علاقے میں اتارے گئے تاکہ محاصرہ مزید مضبوط کیا جا سکے۔ ڈرون سے 2 دہشت گردوں کی لاشیں دیکھی گئی ہیں جنہیں جمعے کی صبح نکالا جائے گا۔ مقامی نوجوانوں نے بھی بھاری ہتھیار اور سامان گہری کھائی تک پہنچانے میں سیکیورٹی فورسز کی مدد کی۔

دعوے اور ذمہ داری

پیپلز اینٹی فاشسٹ فرنٹ (پی اے ایف ایف) نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق یہ تنظیم جیش محمد سے منسلک ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا یہی گروہ گزشتہ اتوار کی شام ہیرانگر سیکٹر میں دیکھا گیا تھا، جہاں ایس او جی سے جھڑپ کے بعد وہ محاصرے سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

پیر کو سرچ ٹیموں کو ہیرانگر انکاؤنٹر کی جگہ کے قریب سے ایم فور کاربائن کی 4 بھری ہوئی میگزینیں، 2 دستی بم، ایک بلٹ پروف جیکٹ، سلیپنگ بیگ، ٹریک سوٹ، کھانے کے پیکٹ اور دیسی ساختہ بم بنانے کا سامان ملا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ گروہ ہفتے کو سرحد پار سے کسی نالے کے راستے یا نئی بنائی گئی سرنگ کے ذریعے دراندازی کر کے آیا ہو سکتا ہے۔

پس منظر

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔ پاکستان میں بھی سرحدی علاقوں میں دراندازی کی کوششیں جاری ہیں — رواں ہفتے کرم میں دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنائی گئی تھی، جس کے بارے میں تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3773 ۔ انگور اڈہ سرحدی جھڑپ کے بعد سے دونوں جانب کشیدگی برقرار ہے، تفصیل یہاں دستیاب ہے: https://ntmnews.online/?p=3191 ۔

بھارتی فوج کی رائزنگ اسٹار کور نے اپنے بیان میں شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہادری اور قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آپریشن تاحال جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

ذرائع: ہندوستان ٹائمز، پریس ٹرسٹ آف انڈیا، انڈین مرر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *