ٹرمپ: یوکرین معاہدہ قریب، پورا یورپ شامل ہوگا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کا معاہدہ قریب ہے اور یہ معاہدہ صرف یوکرین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں پورا یورپ شامل ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بات وائٹ ہاؤس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خصوصی ایلچی کریل دمیتریف سے نجی ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔
ٹرمپ کا دعویٰ: بڑا اور خوبصورت معاہدہ
صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے کہا، “مجھے لگتا ہے ہم روس یوکرین معاملہ حل کرنے کے بہت قریب ہیں۔” انہوں نے کہا کہ معاہدہ ہوگا اور یہ بہت بڑا معاہدہ ہوگا جو صرف یوکرین تک محدود نہیں رہے گا۔
ٹرمپ کے الفاظ میں، “یہ ایک بڑا معاہدہ ہوگا، اور یہ صرف یوکرین سے زیادہ ہوگا۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ اس میں پورا یورپ شامل ہو سکتا ہے۔ یہ ایک بڑا، خوبصورت معاہدہ ہوگا اور سب خوش ہوں گے۔”
تاہم صدر نے معاہدے کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ معاہدے پر کون دستخط کرے گا، کب ہوگا اور اس کی شرائط کیا ہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتانے سے انکار کر دیا کہ دمیتریف سے ملاقات میں کیا بات ہوئی۔
میلانیا ٹرمپ کا کردار اور جنگ بندی
ٹرمپ نے خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے کردار کی تعریف کی، جنہوں نے روس اور یوکرین کے حکام کے درمیان رابطے میں مدد کی۔ میلانیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں دونوں ممالک کے نمائندوں کی میزبانی کی تھی۔
ان کی کوششوں سے 27 اکتوبر سے یکم نومبر تک روس کے زیر قبضہ یوکرینی شہر اولیشکی میں عارضی جنگ بندی ہوئی تھی۔ اس دوران تقریباً 800 شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا اور خوراک اور طبی سامان پہنچایا گیا۔ میلانیا ٹرمپ نے اب مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں موجود یوکرینی وفد سے ملاقات نہیں کی۔
ابوظہبی مذاکرات اور یورپی خدشات
امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے نمائندوں کے درمیان سہ فریقی مذاکرات 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں ہوں گے۔ یہ فروری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی سہ فریقی بات چیت ہوگی۔
ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر نے بتایا کہ امریکی حکام نے برسلز میں یوکرین، نیٹو اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتوں اور یورپ کے لیے وسیع تر سلامتی کے ڈھانچے پر “مفید اور ٹھوس” بات چیت کی ہے۔
کشنر کے مطابق پانچ اہم مقاصد پر غور کیا جا رہا ہے: مستقل سلامتی مشاورت، بحران میں قابل اعتماد رابطہ، زیادہ فوجی شفافیت، کشیدگی کم کرنے کے اقدامات اور یورپ میں طویل مدتی سلامتی کا پائیدار ڈھانچہ۔
ٹرمپ کے بیان پر یوکرین اور یورپی دارالحکومتوں میں خدشہ پیدا ہوا ہے کہ امریکی صدر روس کی طرف جھکاؤ رکھتے ہوئے یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کم کر سکتے ہیں اور ماسکو کو زیادہ اثر دے سکتے ہیں۔
معاہدے کا پس منظر
ٹرمپ نے ماضی میں کئی بار کہا ہے کہ جنگ ختم کرنے کا معاہدہ قریب ہے، تاہم اب تک کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ حالیہ ہفتوں میں مذاکرات میں تیزی آئی ہے۔
روس یوکرین جنگ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کا سب سے مہلک تنازع ہے۔ ابوظہبی مذاکرات سے قبل دونوں فریقوں کے درمیان رابطے جاری ہیں اور دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا واقعی کوئی بڑا معاہدہ سامنے آتا ہے یا یہ صرف ایک اور دعویٰ ثابت ہوتا ہے۔
ماخذ: الجزیرہ، نیوز 18 اور دی ہندو بزنس لائن کی 6 نومبر 2026 کی رپورٹس۔
اندرونی روابط: ایران جنگ پر امریکی نائب صدر کے بیان کی تفصیل کے لیے https://ntmnews.online/?p=3810 اور اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کی خبر کے لیے https://ntmnews.online/?p=3824 دیکھیں۔