نورین نیازی کی حالت مستحکم، ٹیسٹ نارمل: رانا ثناءاللہ

0

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے سینیٹ میں بتایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی کی حالت مستحکم ہے اور ان کے تمام طبی ٹیسٹ نارمل آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت متعلقہ حکام سے پوچھے گی کہ نورین نیازی کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت کیوں نہیں دی گئی، اور کوشش کی جائے گی کہ اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت مل جائے۔

سینیٹ میں حکومتی جواب

رانا ثناءاللہ نے 29 اکتوبر 2026 کو سینیٹ کے اجلاس میں اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نورین نیازی نے جیل میں طبیعت خراب ہونے کی شکایت کی تو انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق نورین نیازی کی حالت اب مستحکم ہے اور ان کے ٹیسٹوں کے نتائج نارمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام سے پوچھا جائے گا کہ نورین نیازی کے رشتہ داروں کو ان سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی، اور کوشش کی جائے گی کہ ان کے رشتہ داروں کو ملاقات کی اجازت مل جائے۔

نورین نیازی اسپتال کیوں منتقل ہوئیں؟

نورین نیازی کو 28 اکتوبر کی شام کوٹ لکھپت جیل لاہور سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے وکیل رانا مدثر عمر کے مطابق جیل کے ڈاکٹروں کی سفارش پر انہیں شام ساڑھے سات بجے کے قریب اسپتال لایا گیا، جہاں ان کے دل اور بلڈ پریشر سے متعلق ابتدائی ٹیسٹ کیے گئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق نورین نیازی کو ہائی بلڈ پریشر کی شکایت تھی۔ جیل کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا تھا کہ انہیں علاج کے بعد صحت یاب ہونے پر واپس جیل منتقل کر دیا جائے گا، اور ممکنہ طور پر ان کی انجیو پلاسٹی بھی کرنا پڑ سکتی ہے۔

پی ٹی آئی کا موقف

پاکستان تحریک انصاف نے نورین نیازی کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے بیان میں کہا گیا کہ 70 سالہ نورین نیازی کی مبینہ غیر قانونی حراست، ان کی صحت کو لاحق خطرات اور خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر اسپتال منتقلی انتہائی سنگین معاملات ہیں، جن پر پنجاب حکومت اور متعلقہ حکام کو فوری وضاحت دینا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ نورین نیازی کو ماہر امراض قلب کی نگرانی میں بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں، تمام ضروری ٹیسٹ اور علاج بلا تاخیر یقینی بنایا جائے اور ان کی صحت کی معلومات فوری طور پر خاندان کے ساتھ شیئر کی جائیں۔ پی ٹی آئی پنجاب کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات فائزہ مراد نے الزام لگایا تھا کہ حکام نے نورین نیازی کے اسپتال وارڈ کو سیل کر دیا ہے اور خاندان کے افراد کو ملاقات سے روک دیا ہے۔ ان کے وکیل رانا مدثر عمر نے یہ بھی الزام لگایا کہ جیل حکام عمران خان کی بہنوں کو ادویات دینے سے مسلسل انکار کر رہے ہیں، جب کہ جیل کے سینئر اہلکار نے کہا کہ قیدیوں کو ادویات اور روزمرہ استعمال کی اشیا فراہم کی جا رہی ہیں۔

پس منظر: بہنوں کی نظر بندی

نورین نیازی، علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو 21 ستمبر 2026 سے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت کوٹ لکھپت جیل میں حراست میں رکھا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر 30 روز کے نظر بندی احکامات جاری کیے گئے تھے، جن میں 7 اکتوبر کو مزید 30 روز کی توسیع کی گئی، جو 20 نومبر کو ختم ہوگی۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ حراست اس لیے کی گئی تاکہ بہنیں عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کے لیے حامیوں کو متحرک نہ کر سکیں۔

مزید پڑھیں: نورین نیازی کی اسپتال منتقلی کی مکمل تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=2517
اور عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی میں توسیع کی خبر یہاں ملاحظہ کریں: https://ntmnews.online/?p=2147

ذرائع: ڈان، دی ٹیلی گراف انڈیا، دی ٹریبیون اور آئی اے این ایس کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *