عمران کی بہنوں کی نظر بندی 30 دن بڑھ گئی
لاہور ہائیکورٹ کو پیر کے روز بتایا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تین بہنوں کی نظر بندی مزید 30 دن کے لیے بڑھا دی گئی ہے، جس کے بعد عدالت نے ان کی رہائی کی درخواست نمٹا دی۔ پنجاب حکومت کے قانون افسر نے عدالت کو بتایا کہ یہ توسیع لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی سفارش پر کی گئی ہے۔
عدالت میں کیا ہوا
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ابہر گل خان نے علیمہ خان کے بیٹے شاہریز کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تینوں بہنیں ابتدائی 30 دن کی نظر بندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود حراست میں ہیں اور انہیں رہا کیا جائے۔
پنجاب حکومت کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے صوبائی ہوم سیکرٹری کی رپورٹ عدالت میں پیش کی اور بتایا کہ حکومت نے علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی ہے۔ ڈان کے مطابق یہ توسیع 7 اکتوبر کو منظور کی گئی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت سے استدعا کی کہ تینوں خواتین کو بازیاب کرا کر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ تاہم جسٹس ابہر گل خان نے قرار دیا کہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے جاری کیا تھا، لیکن درخواست گزار نے انہیں درخواست میں فریق نہیں بنایا، اس لیے عدالت درخواست کے دائرے سے باہر حکم جاری نہیں کر سکتی۔ عدالت نے ہوم سیکرٹری کی رپورٹ کی روشنی میں درخواست نمٹا دی۔
تینوں بہنیں کب حراست میں لی گئیں
رپورٹس کے مطابق علیمہ خان کو 20 ستمبر کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں لیا گیا اور لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔ ان کی بہنیں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو اگلے روز، 21 ستمبر کو، اسی قانون کے تحت حراست میں لیا گیا۔
ابتدائی نظر بندی کی مدت علیمہ خان کے لیے 19 اکتوبر اور عظمیٰ و نورین کے لیے 20 اکتوبر کو ختم ہوئی تھی، جیسا کہ درخواست گزار کے وکیل نے گزشتہ سماعت میں عدالت کو بتایا تھا۔ یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاری کر رہی تھی، جس میں 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کا منصوبہ بھی شامل تھا۔
پی ٹی آئی کا موقف اور حکومت کا مؤقف
پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس توسیع پر تنقید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیاسی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق تینوں بہنیں کسی فوجداری مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں، اس لیے ان کی مسلسل حراست کا جواز نہیں بنتا۔ یہ پی ٹی آئی کا الزام ہے، جس کی حکومت نے تردید نہیں کی ہے بلکہ عدالت میں اپنا مؤقف ہوم سیکرٹری کی رپورٹ کے ذریعے پیش کیا ہے۔
حکومتی مؤقف یہ ہے کہ نظر بندی عوامی امن و امان کے قانون کے تحت، ڈپٹی کمشنر کی سفارش اور حکومت کی منظوری سے کی گئی ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں حکومت کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر درخواست نمٹائی ہے، نہ کہ نظر بندی کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ دیا ہے۔
پس منظر: عمران خان کی قید
عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور ان کے خلاف متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں، جنہیں وہ اور ان کی جماعت سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات قرار دیتے ہیں۔ ان کی بہنیں گزشتہ برسوں میں ان کی رہائی کی مہم میں نمایاں رہی ہیں اور اڈیالہ جیل کے باہر بھی پیش ہوتی رہی ہیں۔
اس سے قبل پی ٹی آئی کی کور کمیٹی سے متعلق خبروں پر بھی بحث جاری ہے، جس کی تفصیل ہماری گزشتہ رپورٹ میں موجود ہے: https://ntmnews.online/?p=2117 ۔ اسی طرح عمران خان کی صحت سے متعلق پی ٹی آئی کے بیان پر بھی جماعت کی جانب سے تشویش ظاہر کی گئی تھی: https://ntmnews.online/?p=1320 ۔
آگے کیا ہوگا
نظر بندی میں 30 دن کی توسیع کے بعد تینوں بہنیں آئندہ تقریباً ایک ماہ تک کوٹ لکھپت جیل میں ہی رہیں گی، جب تک کہ کوئی نئی عدالتی کارروائی یا حکومتی فیصلہ سامنے نہیں آتا۔ درخواست گزار کے پاس یہ راستہ موجود ہے کہ وہ ڈپٹی کمشنر کو فریق بنا کر نئی درخواست دائر کریں، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ معاملہ پی ٹی آئی اور پنجاب حکومت کے درمیان جاری سیاسی کشمکش کا حصہ بن گیا ہے اور آئندہ سماعتوں یا بیانات سے اس میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
ماخذ: ڈان، جیو نیوز اور دی نیشن کی 26 تا 27 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔