پوتن آج ایرانی صدر سے ملیں گے، تہران مذاکرات مکمل
روسی صدر ولادیمیر پوتن آج منگل 27 اکتوبر کو ماسکو میں ایرانی صدر اور قطر کے امیر سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب تہران میں مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے حکام کے ایرانی حکام سے مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں، جنہیں ایران کے سیکیورٹی چیف نے “بہت اچھے مذاکرات” قرار دیا ہے۔
تہران مذاکرات میں کیا طے ہوا
ایران کے سیکیورٹی چیف نے پیر کو تہران میں مکہ معاہدے کے تینوں رکن ممالک کے ساتھ پہلی ملاقات کے بعد کہا کہ فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ خطے کی سیکیورٹی خطے سے ہی آنی چاہیے، اور جوہری معاملات ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں۔
مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے باہمی دفاع کے لیے اتحاد قائم کیا ہے۔ تہران مذاکرات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ایران کے ساتھ رابطے کا راستہ کھلا رکھنا بتایا جا رہا ہے۔
یمن اور سعودی عرب میں کشیدگی
دوسری جانب سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے میزائل پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا ہے اور بتایا ہے کہ ریاض اور جنوبی علاقوں کے اوپر تین ڈرونز مار گرائے گئے۔ مصر کی پارلیمنٹ نے بھی حوثی حملوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی حمایت کی منظوری دے دی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی افواج ایران کے خلاف بڑی کارروائی کے لیے تیار ہیں، تاہم تازہ سفارتی رابطوں نے فوری کشیدگی میں کچھ کمی کا اشارہ دیا ہے۔
پوتن کی ملاقات کیوں اہم ہے
ماسکو میں پوتن کی ایرانی صدر اور قطر کے امیر سے ملاقات کو خطے کی سفارت کاری میں اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ روس ایران کا قریبی شراکت دار ہے اور قطر خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان ملاقاتوں سے یہ واضح ہوگا کہ خطے کے بڑے کھلاڑی کشیدگی کم کرنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ پاکستان مکہ معاہدے کا رکن ہے اور تہران مذاکرات میں شریک رہا ہے۔ اسلام آباد کا موقف رہا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری سے نکلنا چاہیے، نہ کہ فوجی کارروائی سے۔
تہران مذاکرات کے انعقاد کی خبر یہاں پڑھیں اور ایران پر امریکی کارروائی کی تیاری کی رپورٹ یہاں دیکھیں۔
ذرائع: انڈین ایکسپریس لائیو اپ ڈیٹس