نئی آٹو پالیسی: گاڑیاں سستی، ای وی قرض 1 کروڑ
وفاقی حکومت نے 7 نومبر کو نئی آٹو پالیسی 2026-31 کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت گاڑیاں بتدریج سستی ہوں گی، الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس صرف ایک فیصد ہوگا اور الیکٹرک گاڑی خریدنے کے لیے قرض کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی جائے گی۔ تاہم یہ سہولتیں ابھی حتمی نہیں ہیں اور ان کے لیے آئی ایم ایف کی منظوری درکار ہے۔
پالیسی کا اعلان کس نے کیا
نئی آٹو پالیسی کا اعلان وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ ہارون اختر کے مطابق پالیسی چھ بنیادی ستونوں پر کھڑی ہے: گاڑیاں سستی بنانا، برآمدات بڑھانا، مقامی پیداوار کو فروغ دینا، گاڑیوں کی حفاظت بہتر بنانا، الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینا اور شفافیت۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی واضح ہدایت تھی کہ گاڑیوں کی قیمتوں اور مینوفیکچرنگ لاگت میں کمی لائی جائے۔ ان کے الفاظ میں، لگژری گاڑیوں کے علاوہ تمام گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی۔
گاڑیاں کیسے سستی ہوں گی
حکومت کے مطابق مکمل طور پر تیار گاڑیوں، اسمبلی کٹس اور آٹو پرزہ جات پر عائد ڈیوٹیاں اگلے پانچ سال میں ہر سال بتدریج کم کی جائیں گی، جس سے ٹیرف مسابقتی سطح پر آ جائیں گے اور پیداواری لاگت کم ہوگی۔ حکومت نے کہا ہے کہ اس سے خاص طور پر درمیانے اور کم آمدنی والے طبقے کے خریداروں کو فائدہ ہوگا، جو 850 سی سی سے 1300 سی سی کی گاڑیاں خریدتے ہیں۔
ایک ہزار سی سی سے کم انجن والی گاڑیاں، جو عموماً کم اور درمیانی آمدنی والے گھرانے استعمال کرتے ہیں، اضافی ٹیکس اقدامات سے مستثنیٰ رہیں گی۔
مزید پڑھیں: پٹرول کی قیمت میں کمی
الیکٹرک گاڑیوں پر بڑی ٹیکس رعایت
پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے تین مختلف سیلز ٹیکس کی شرحیں تجویز کی گئی ہیں: مکمل الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر چھ فیصد اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں پر نو فیصد۔
اس کے علاوہ 50 ہزار ڈالر تک کی قیمت والی الیکٹرک گاڑیوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نہیں لگے گی۔ 50 ہزار ڈالر سے مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کو لگژری گاڑی سمجھا جائے گا اور ان پر عام ٹیکس لاگو ہوگا۔
تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ سیلز ٹیکس کی یہ تجویز کردہ شرحیں آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہیں، اور ان میں مزید تبدیلی بھی ممکن ہے۔
ای وی قرض کی حد ایک کروڑ روپے
الیکٹرک گاڑیاں خریدنا آسان بنانے کے لیے حکومت نے ای وی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جبکہ قرض کی واپسی کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی جائے گی۔ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک پاکستان میں فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں میں سے 30 فیصد الیکٹرک ہوں، اور ہارون اختر کے مطابق یہ ہدف مقررہ وقت سے پہلے بھی حاصل ہو سکتا ہے۔
برآمدات کا ہدف 6 ارب ڈالر
نئی پالیسی میں مقامی آٹو صنعت کو برآمدی صنعت میں بدلنے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔ حکومت اگلے پانچ سال میں 6 ارب ڈالر کی آٹو برآمدات کا ہدف رکھتی ہے۔ برآمدی شرائط پوری کرنے والے مینوفیکچررز کو مقامی ٹیکسوں اور لیویز پر 5 فیصد ڈیوٹی ڈرا بیک ملے گا، جبکہ برآمدات بڑھنے پر مزید 10 فیصد مراعات دی جائیں گی۔
خریداروں کے لیے اہم احتیاط
پاک وہیلز اور دیگر ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اعلان کردہ اقدامات کو ابھی نافذ شدہ نہ سمجھا جائے۔ پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے آئی ایم ایف سے معاہدے، ریگولیٹری منظوریوں اور قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔ 4 نومبر کو حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو بتایا تھا کہ مسودہ آئی ایم ایف کے جائزے کے لیے وزارت خزانہ کے ذریعے بھیجا جائے گا۔
اس لیے صارفین کو شوروم میں فوری قیمتوں میں کمی یا نئی ٹیکس رعایتوں تک فوری رسائی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ حتمی نوٹیفکیشن اور قواعد جاری ہونے کے بعد ہی ان سہولتوں کا اطلاق ہوگا۔
مزید پڑھیں: بجلی مہنگی: نومبر بل میں فی یونٹ 2.37 روپے اضافہ
آگے کیا ہوگا
نئی آٹو پالیسی پاکستان کی آٹو صنعت کے لیے ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتی ہے، اگر اس کی ٹیکس تجاویز کو آئی ایم ایف کی منظوری مل جاتی ہے۔ سستی گاڑیاں اور الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی سے نہ صرف عام خریداروں کو فائدہ ہوگا بلکہ مقامی صنعت اور برآمدات کو بھی تقویت ملے گی۔ اب سب کی نظریں آئی ایم ایف کے فیصلے اور حتمی نوٹیفکیشن پر ہیں۔
ماخذ: ڈان (7 نومبر 2026)، پاک وہیلز، پاکستان ٹوڈے، بول نیوز