بجلی مہنگی: نومبر بل میں فی یونٹ 2.37 روپے اضافہ

0

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نومبر 2026 کے بجلی بلوں میں فی یونٹ 2.37 روپے اضافی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے ملک بھر کے بجلی صارفین سے تقریباً 25 ارب روپے وصول کیے جائیں گے، اور یہ اضافہ کراچی کے کے الیکٹرک صارفین پر بھی لاگو ہوگا۔

نیپرا نے یہ فیصلہ جمعے 6 نومبر کو کیا۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں یہ رقم نومبر کے بلوں میں الگ لائن کے طور پر وصول کریں گی، جو ستمبر میں استعمال ہونے والے یونٹوں کی بنیاد پر ہوگی۔

2.37 روپے کا اضافہ کیوں

یہ اضافہ ستمبر 2026 کے ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت منظور کیا گیا ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے فی یونٹ 2.56 روپے اضافے کی درخواست کی تھی، لیکن نیپرا نے اس سے تقریباً 19 پیسے کم، یعنی 2.3673 روپے فی یونٹ کی منظوری دی۔

ریفرنس ٹیرف کے مطابق ستمبر میں بجلی کی پیداوار پر فی یونٹ ایندھن کی لاگت 7.4596 روپے مانی گئی تھی، جبکہ اصل لاگت اس سے زیادہ رہی، اسی فرق کی وصولی اب نومبر کے بلوں سے کی جائے گی۔ مثال کے طور پر جس گھر نے ستمبر میں 300 یونٹ استعمال کیے، اس کے بل میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں تقریباً 710 روپے کا اضافہ ہوگا، جس پر سیلز ٹیکس اور دیگر چارجز الگ سے لگیں گے۔

تین گروہ اس اضافے سے مستثنیٰ رہیں گے: لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز، اور وہ صارفین جنہوں نے پری پیڈ ٹیرف کا انتخاب کیا ہے۔ اگر کسی کمپنی نے نومبر کے بل پہلے ہی جاری کر دیے ہیں تو وہ یہ رقم اگلے مہینے کے بل میں وصول کر سکے گی۔

صنعتی ٹیرف بھی بڑھ گیا

اسی فیصلے میں نیپرا نے صنعتی صارفین کے لیے خصوصی مراعاتی ٹیرف بھی بڑھا دیا ہے۔ اضافی بجلی استعمال کرنے والے صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے انکریمنٹل سپورٹ پیکج کی شرح 22.98 روپے سے بڑھا کر 25.30 روپے فی یونٹ کر دی گئی ہے، جو نومبر 2026 کے بلنگ مہینے سے نافذ ہوگی۔

یہ فیصلہ نیپرا کے چار ارکان میں 2-2 کی تقسیم کے بعد چیئرمین وسیم مختار کے فیصلہ کن ووٹ سے منظور ہوا۔ دو ارکان، رکن ٹیرف امینہ احمد اور رکن ترقی مقصود انور، نے اختلافی نوٹ لکھے اور کہا کہ بجلی کی اصل معمولی لاگت 31.83 روپے فی یونٹ ہے۔ چیئرمین نے اپنے تحریری فیصلے میں اختلافی ارکان کے دلائل کو سنجیدہ غور کا مستحق قرار دیا۔

یہ مراعاتی پیکج گزشتہ برس دسمبر میں صنعتی سرگرمیاں بحال کرنے اور اضافی بجلی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کے تحت صرف پچھلے سال سے زیادہ استعمال ہونے والے یونٹوں پر رعایتی شرح لاگو ہوتی ہے، جبکہ بنیادی استعمال پرانے نرخوں پر ہی رہتا ہے۔

صارفین پر کیا اثر پڑے گا

ماہرین کے مطابق نومبر کے بلوں میں یہ اضافہ گھریلو صارفین کے لیے بھی بوجھ بنے گا، کیونکہ فیول ایڈجسٹمنٹ تمام صارفین پر لاگو ہوتی ہے۔ صنعتی شعبے نے بھی ٹیرف میں اضافے پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پیداواری لاگت بڑھے گی۔

دوسری طرف نیپرا کا کہنا ہے کہ یہ شرح عارضی ہے اور بجلی کی اصل لاگت کا حتمی تعین ابھی باقی ہے۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نومبر کے بل میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی لائن ضرور چیک کریں۔

کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی صورتحال پر ہماری رپورٹ یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=1897

پیٹرول کی قیمتوں کی تازہ صورتحال پر ہماری رپورٹ یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3935

ماخذ: ڈان، جیو نیوز اور پاکستان ٹوڈے، 7 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *