مدینہ پر حوثی ڈرون مار گرایا گیا، عدن پر میزائل حملے
سعودی قیادت والے اتحاد نے جمعے 30 اکتوبر کو مدینہ کے علاقے میں یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک ڈرون روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مدینہ میں مسجد نبوی واقع ہے، جو اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے اور ہر سال لاکھوں مسلمان زائرین یہاں آتے ہیں۔ اسی روز جنوبی یمن کے شہر عدن میں ایئرپورٹ اور صدارتی محل کے کمپلیکس پر بیلسٹک میزائل حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
مدینہ کے علاقے میں ڈرون کیسے روکا گیا
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی قیادت والے اتحاد نے 30 اکتوبر کو بیان میں کہا کہ اس نے مدینہ کے علاقے میں حوثیوں کے ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا تھا۔ اس سے پہلے اتحاد مکہ مکرمہ کے علاقے میں بھی ایک ڈرون روکنے کی اطلاع دے چکا ہے، جس پر ہماری گزشتہ خبر میں بھی تفصیل دی گئی تھی۔ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور خانہ کعبہ واقع ہے، اس لیے مقدس شہروں کے قریب اس طرح کی کارروائیوں پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے جمعے کو سعودی علاقے پر حملے کے دعووں کو ایک بار پھر مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کارروائیاں سعودی تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں کے خلاف ہیں، مقدس شہروں کے خلاف نہیں۔ اس سے پہلے بھی حوثی گروپ مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے، جب کہ سعودی اتحاد کا موقف ہے کہ وہ ان شہروں کے قریب ڈرون روک چکا ہے۔
عدن ایئرپورٹ اور صدارتی محل پر میزائل حملے
یمنی حکام کے مطابق جمعے کو عدن ایئرپورٹ اور معاشیق صدارتی محل کے کمپلیکس پر بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ یمنی حکومت کے ایک فوجی ترجمان نے حملوں کی تصدیق کی، تاہم جانی یا مالی نقصان کی تفصیل نہیں بتائی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ محل کے کمپلیکس پر دو میزائل داغے گئے، جب کہ عینی شاہدین نے دو دھماکوں کی آوازیں سننے اور محل کے احاطے میں ایمبولینسوں کے داخل ہونے کی اطلاع دی۔
عدن یمن کا اہم جنوبی بندرگاہی شہر ہے اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا مرکز ہے۔ یہ شہر جولائی سے دوبارہ تیز ہونے والی لڑائی کے بعد سے بار بار حملوں کی زد میں رہا ہے۔ اس تازہ حملے سے چند روز پہلے بدھ کو بھی عدن ایئرپورٹ پر حملہ ہوا تھا، جس سے قبل حوثیوں نے انخلا کی وارننگ جاری کی تھی۔ عدن ایئرپورٹ انسانی امداد کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے، اس لیے اس پر حملوں سے امدادی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
سعودی قیادت والا اتحاد یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، جب کہ ایران سے منسلک حوثی گروپ دارالحکومت صنعا پر قابض ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں حالیہ ہفتوں میں تیزی آئی ہے، اور یہ محاذ ایران کے گرد جاری وسیع علاقائی کشیدگی کا ایک اور رخ بن گیا ہے۔ سعودی عرب پر حالیہ حملوں میں تیل تنصیبات، ہوائی اڈے اور اب مقدس شہروں کے قریبی علاقے بھی شامل بتائے جا رہے ہیں، جس سے خطے میں امن کی کوششوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی یہ صورت حال اہم ہے، کیونکہ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں مقیم ہیں اور ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی عمرہ اور حج کے لیے مکہ اور مدینہ جاتے ہیں۔ اس سے پہلے سعودی عرب میں حوثی حملوں کے دوران پاکستانی شہریوں کے متاثر ہونے کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم زمینی صورت حال ابھی کشیدہ ہے اور آنے والے دنوں میں مزید حملوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ہماری گزشتہ خبر میں مکہ مکرمہ کے علاقے میں ڈرون مار گرائے جانے کی تفصیل دی گئی تھی (https://ntmnews.online/?p=2854)، اور دمام ایئرپورٹ پر حملے کے بعد خطے کی صورت حال پر بھی رپورٹ شائع ہوئی تھی (https://ntmnews.online/?p=1301)۔
ماخذ: روئٹرز، 30 اکتوبر 2026؛ دی ڈیلی جاگرن، 31 اکتوبر 2026 (اے ایف پی اور روئٹرز کے حوالے سے)۔