لاہور میں سموگ کم، جنوبی پنجاب میں شدت

0

لاہور میں فضائی آلودگی جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو گزشتہ روز کے خطرناک درجے سے کم ہو گئی ہے، لیکن سموگ کا زور اب جنوبی پنجاب کی طرف منتقل ہو گیا ہے، جہاں ملتان اور رحیم یار خان سب سے زیادہ متاثرہ شہر بن گئے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں اوسط فضائی آلودگی اشاریہ (ایکو آئی) 170 ریکارڈ کیا گیا، جو اب بھی صحت کے لیے نقصان دہ حد میں ہے۔

لاہور میں آج کی صورتحال

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق جمعہ کو لاہور کا اوسط ایکو آئی 170 رہا، جو جمعرات کے غیر معمولی بلند درجے سے واضح طور پر کم ہے۔ تاہم شہر کے کئی علاقوں میں آلودگی بدستور زیادہ رہی۔ برکی روڈ پر ایکو آئی 230 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کنٹونمنٹ اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 180، 180 رہا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں درجہ حرارت بھی بتدریج کم ہو رہا ہے۔ شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ اور کم سے کم 18 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمے نے بتایا کہ آئندہ چند روز میں بارش کا کوئی امکان نہیں ہے اور ہلکی ہوائیں چلتی رہیں گی، جس کی وجہ سے آلودگی جلد ختم ہونے کی توقع کم ہے۔

جمعرات: لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر

یہ بہتری ایک انتہائی خراب دن کے بعد آئی ہے۔ جمعرات 29 اکتوبر کی صبح 10 سے 11 بجے کے دوران عالمی مانیٹرنگ ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق لاہور کا ایکو آئی 419 تھا، جس سے وہ دنیا کے بڑے شہروں میں سب سے آلودہ شہر بن گیا تھا۔ اس وقت مصر کے دارالحکومت قاہرہ کا ایکو آئی 274 اور بھارتی دارالحکومت دہلی کا 220 تھا، جبکہ کراچی 165 کے ساتھ عالمی فہرست میں آٹھویں نمبر پر تھا۔
پنجاب حکومت کے اپنے مانیٹرنگ ڈیش بورڈ کے مطابق بھی جمعرات کو صوبے کے کئی شہروں میں آلودگی خطرناک حد میں تھی۔ قصور 348 کے ساتھ سب سے آگے تھا، اس کے بعد لاہور 324، فیصل آباد 290، کوٹ ادو 269 اور ڈیرہ غازی خان 267 پر تھے۔ ننکانہ صاحب میں 261، حافظ آباد میں 250، ساہیوال میں 210، شیخوپورہ میں 205، جھنگ میں 203 اور راجن پور میں 201 ریکارڈ کیا گیا۔

جنوبی پنجاب میں سموگ کا نیا مرکز

جمعہ کو صورتحال کا رخ بدلا اور سموگ جنوبی پنجاب کی طرف بڑھ گئی۔ خشک موسم اور ہلکی ہواؤں کے باعث ملتان اور رحیم یار خان صوبے کے سب سے آلودہ شہر بن گئے۔ ماہرین کے مطابق ہواؤں کا رخ اور خشک موسم آلودگی کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک لے جاتا ہے، اس لیے لاہور میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ختم ہو گیا ہے۔
ادھر اسکولوں کی بندش کا سوال بھی زیر بحث ہے۔ لاہور میں اسکولوں نے منگل سے کھلی فضا میں سرگرمیاں روک دی تھیں، لیکن جمعہ تک پنجاب حکومت نے اسکول بند کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا اور والدین فیصلے کے منتظر تھے۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ آلودگی زیادہ ہونے پر ماسک پہنیں اور غیر ضروری طور پر باہر جانے سے گریز کریں، خاص طور پر بچے، بزرگ اور سانس کے مریض احتیاط کریں۔

حکومت کی کارروائی اور صحت کے خطرات

ماحولیاتی تحفظ کے ادارے نے سموگ سے پہلے کی مہم میں 28 ستمبر سے 27 اکتوبر کے دوران کارروائی تیز کر دی ہے۔ اس مہم میں 197 غیر معیاری اینٹوں کے بھٹے مسمار کیے گئے، 163 یونٹس سیل کیے گئے اور 162 مقدمات درج کیے گئے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی مصنوعی ذہانت والے کیمروں سے سموگ سے متعلق خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کر رہی ہے۔
پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی نئی قومی رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی پاکستان میں اوسط عمر تقریباً 3.9 سال کم کر رہی ہے اور ہر سال تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار قبل از وقت اموات کا باعث بن رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور میں باریک ذرات (پی ایم 2.5) کی سالانہ اوسط 110 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر سے زیادہ ہے، جو عالمی ادارہ صحت کی سالانہ حد سے 22 گنا زیادہ ہے۔ گاڑیوں کا دھواں اس آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اس کے بعد صنعتیں 28 فیصد اور روایتی بھٹے 17 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور سموگ سے متعلق گزشتہ رپورٹ یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=2678 اور سموگ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر یہاں دیکھیں: https://ntmnews.online/?p=1254
ماخذ: اے پی پی کے ذریعے اردو پوائنٹ، ڈان اور دی ٹریبیون کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *