عثمان خواجہ کا سینڈ پیپر گیٹ پر دھماکہ خیز انکشاف

0

سابق آسٹریلوی اوپنر عثمان خواجہ نے 2018 کے بدنام زمانہ سینڈ پیپر اسکینڈل پر دھماکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بال ٹیمپرنگ کی سازش کی خبر پوری آسٹریلوی ٹیم کو تھی، صرف تین کھلاڑیوں کو نہیں۔ خواجہ کی خود نوشت کتاب “صبر” کے اقتباسات ہفتہ 7 نومبر 2026 کو سڈنی مارننگ ہیرالڈ میں شائع ہوئے، جس کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے اپنی 2018 کی تحقیقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے نتائج پر مطمئن ہے۔

خواجہ کا دعویٰ: “یہ ہم سب تھے”

خواجہ نے کتاب میں لکھا ہے کہ جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران بال کو خراب کرنے کے طریقوں پر ڈریسنگ روم میں “کھلی اور ہلکی پھلکی” بات چیت ہوتی تھی، جس میں سینڈ پیپر کا استعمال بھی شامل تھا۔ ان کے الفاظ میں: “یہ ہم سب تھے۔ نہ صرف بیٹرز، نہ صرف بولرز، نہ عملہ۔ ہم سب۔”
خواجہ کے مطابق سینڈ پیپر کی بحث کا آغاز سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں ہوا تھا، جو پورٹ الزبتھ — اب گکیبرہا — میں کھیلا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہیں ٹیم نے “سینڈ پیپر کو ایک مؤثر ذریعہ” کے طور پر دریافت کیا، اور وقفے کے دوران کیمرون بینکرافٹ نے جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں سینڈ پیپر استعمال کرنے کی پیشکش کی تھی، جس کے بعد گیند زبردست سوئنگ کرنے لگی۔

کرکٹ آسٹریلیا کا موقف برقرار

کرکٹ آسٹریلیا نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا: “کرکٹ آسٹریلیا کو اب تک پیش کی گئی تمام متعلقہ معلومات پر مناسب طریقے سے غور کیا گیا ہے اور ہم اپنی سالمیت کے عمل کے نتائج پر مطمئن ہیں۔” بورڈ نے مزید کہا کہ متعلقہ معلومات پیش کرنے کا موقع ہمیشہ موجود رہا ہے اور اب بھی موجود ہے۔
یاد رہے کہ 2018 کی تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سینڈ پیپر استعمال کرنے کی سازش کا پہلے سے علم صرف تین کھلاڑیوں — اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ — کو تھا۔ اس کے بعد اسمتھ اور وارنر پر ایک سال کی پابندی اور بینکرافٹ پر نو ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی، جبکہ ہیڈ کوچ ڈیرن لیمن براہ راست ملوث نہ پائے جانے کے باوجود سیریز کے فوراً بعد مستعفی ہو گئے تھے۔

خواجہ سے تفتیش ہی نہیں ہوئی

خواجہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تحقیقات کے دوران کرکٹ آسٹریلیا نے ان سے کبھی پوچھ گچھ ہی نہیں کی، حالانکہ وہ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران ڈریسنگ روم میں بینکرافٹ کے بالکل ساتھ بیٹھے تھے۔ “میں اس پورے ٹیسٹ میچ میں کیم بینکرافٹ کے ساتھ بیٹھا رہا، اور میرا انٹرویو نہیں لیا گیا،” خواجہ نے کہا۔
خواجہ تحقیقات میں بے قصور قرار پائے تھے اور انہوں نے جنوری 2026 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے 88 ٹیسٹ میچوں میں 6,229 رنز بنائے، جن میں 16 سنچریاں شامل ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

خواجہ کی کتاب “صبر” منگل کو شائع ہو رہی ہے، اور انہوں نے کتاب کی اشاعت سے قبل آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز اور کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرینبرگ کو آگاہ کر دیا تھا۔ کمنز نے اس ماہ کے آغاز میں ان خدشات کو مسترد کر دیا تھا کہ کتاب سے مزید تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 2018 کی چار میچوں کی سیریز جنوبی افریقہ نے 3-1 سے جیتی تھی، اور گزشتہ ماہ آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم 2018 کے بعد پہلی بار جنوبی افریقہ گئی، جہاں تین میچوں کی سیریز 2-1 سے ہار گئی۔ خواجہ کے انکشافات نے آٹھ سال پرانے اسکینڈل پر بحث ایک بار پھر تیز کر دی ہے، اور اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا کرکٹ آسٹریلیا اس معاملے پر مزید کوئی قدم اٹھاتا ہے یا نہیں۔
مزید کرکٹ خبروں کے لیے دیکھیں: آریاویر سہواگ کی نصف سنچری (https://ntmnews.online/?p=3928) اور زمبابوے افغانستان ٹیسٹ سیریز (https://ntmnews.online/?p=3859
ماخذ: چینل نیوز ایشیا (رائٹرز)، ای ایس پی این، اے اے پی — 7 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *