روس یوکرین مذاکرات: ابوظبی میں 10 نومبر کو ملاقات
روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کا نیا دور 10 اور 11 نومبر کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں ہوگا۔ کریملن نے ہفتہ 7 نومبر کو اپنے وفد کی تشکیل کا اعلان کر دیا، جس کی سربراہی ایک بار پھر صدر ولادیمیر پوتن کے معاون ولادیمیر میڈنسکی کریں گے۔
یہ فروری کے بعد پہلے سہ فریقی مذاکرات ہوں گے۔ امریکہ اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے مطابق مذاکرات میں جنگ کے بعد کی سیکیورٹی ضمانتوں، کشیدگی میں کمی، انسانی ہمدردی کے امور اور امن کی جانب اگلے اقدامات پر بات ہوگی۔
روس کے وفد میں کون کون شامل ہے
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ روسی وفد میں نائب وزرائے خارجہ سرگئی ریابکوف اور میخائل گالوزین شامل ہوں گے۔ ریابکوف پہلی بار مذاکراتی ٹیم کا حصہ بنیں گے۔ وفد میں روسی فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ ایگور کوستیوکوف اور جنرل اسٹاف کے سینئر افسر یوری ژیگارلووسکی بھی شامل ہیں۔
صدر پوتن نے 6 نومبر کو روسی سیکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان اور مذاکراتی ٹیم کے ارکان کے ساتھ ملاقات کی تھی، جس میں ابوظبی روانگی سے قبل تیاریوں پر بات چیت کی گئی۔ میڈنسکی اس سے قبل 2022 میں ترکی میں یوکرین سے مذاکرات میں بھی روسی وفد کی سربراہی کر چکے ہیں۔
امریکہ اور یوکرین کے وفود
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔ یوکرین کی جانب سے صدارتی دفتر کے سربراہ کریلو بودانوف کے وفد کی سربراہی کرنے کی اطلاعات ہیں۔
کریملن کے ترجمان نے واضح کیا کہ یورپی ممالک کے نمائندے اس ملاقات میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ یہ سہ فریقی مذاکرات کا فارمیٹ ہے۔ اس سے ایک روز قبل کریملن نے یورپ پر تنقید کی تھی کہ وہ اب تک یہ طے نہیں کر سکا کہ مستقبل میں یوکرین کی سیکیورٹی پر ہونے والی بات چیت میں اس کی نمائندگی کون کرے گا۔
مذاکرات کا ایجنڈا اور پس منظر
وٹکوف کے مطابق مذاکرات ماہرین کی سطح پر ہوں گے اور ان میں جنگ کے بعد کی سیکیورٹی کے انتظامات، کشیدگی میں کمی، انسانی امور اور امن کی جانب اگلے اقدامات شامل ہوں گے۔ فروری میں جنیوا میں ہونے والا پچھلا دور سہ فریقی مذاکرات کا آخری دور تھا، جس کے بعد سے یہ عمل کئی ماہ سے رکا ہوا تھا۔
یوکرین کی جنگ پر سلامتی کونسل میں پاکستان کی سفارتکاری کی کوششوں پر بھی حالیہ دنوں میں بات ہوئی تھی۔ مزید تفصیل کے لیے پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4041 اور https://ntmnews.online/?p=3784
دنیا بھر کی نظریں اب ابوظبی پر ہیں کہ آیا یہ مذاکرات جنگ کے خاتمے کی جانب کوئی ٹھوس پیش رفت لا سکیں گے یا یہ بھی پچھلے ادوار کی طرح بغیر نتیجے کے ختم ہوں گے۔ دونوں فریقوں کے اعلیٰ سطحی وفود کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس بار بات چیت کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
ماخذ: رائٹرز، دی نیوز، ٹاس، آر بی سی یوکرین